جانور ذبح نہ کرنے کا مطالبہ مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت نے جانوروں کی فلاح کےلئےکام کرنے والے گروہوں کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ جانوروں کو مسلمانوں یا یہودیوں کے طریقے کے مطابق ذبح نہ کیا جائے۔ ان جماعتوں کے مطابق یہودیوں یا مسلمانوں کا جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ انتہائی اذیتناک ہے۔ اس بحث پر مسلمانوں اور یہودیوں کا موقف ہے کہ یہی ان کا صدیوں پرانا مذہبی طریقہ ہے جو اسلام اور یہودیت کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ گزشتہ برس ’فارم اینیمل ویلفیئر کونسل کا کہنا تھا کہ جانوروں کا سُن کیے بغیر ذبح کرنے کے طریقہ سے جانور کو شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ گو کہ حلال اور کوشر کے لیے ذبح کرنے کے طریقہ میں جانور کی گردن پر ایک ہی بار میں چھری رکھ کر چلاتے ہوئے ذبح کیا جانا چاہیے۔ اور اس عمل سے قبل یہ ضرور دیکھ لینا چاہیےکہ جانور صحت مند ہو۔ اس سلسلے میں ابھی تو حکومت نے جانوروں کی فلاح کے لئے کام کرنے والی جماعتوں کا مطالبہ خارج کر دیا ہے مگر وہ اس نظریے پر ضرور غور کر رہی ہے کہ آیا جانور کو ذبح کرنے کے فوری بعد سُن کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ’فارم اینیمل ویلفیئر کونسل کی سربراہ جوڈی کلارک کے مطابق حکومت کی اس سوچ سے اتنا تو واضح ہوا ہے کہ حکومت نے مان لیا ہے کہ حلال اور کوشر کے طریقے سے جانور تکلیف سے گزرتے ہیں۔ اسی موقف پر حلال فوڈ اتھارٹی کے صدر مسعود خواجہ کہتے ہیں کہ ’ ذبح کے بعد سُن کرنے کے طریقہ کار کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیا اس طریقے سے خون کی وہ مقدار بہہ سکے گی جو اسلام میں ضروری قرار دی گئی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||