سری لنکا سے سینکڑوں کا انخلا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تامل ٹائیگرز کی مبینہ دھمکی کے بعد بڑی تعداد میں ڈاکٹر، کاروباری افراد اور تدریسی عملہ مشرقی سری لنکا سے نکل گیا ہے۔ اس دھمکی میں، جو ایک گمنام پرچے کے ذریعہ دی گئی ہے، ملک کے شمالی حصہ سے تعلق رکھنے والی تامل آبادی سے کہا گیا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر علاقہ خالی کر دیں یا پھر زندہ جلنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ بھاتی صحافی روی پرشاد نے بی بی سی کو بتایا ’اس بار تشدد کی زیادہ وارداتیں مشرقی علاقے میں ہوئی ہیں۔ یہاں دو امیدواروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور ایک ریٹرننگ افسر کو گولی مار دی گئی۔‘ تقسیم شدہ پرچے میں جافنا سے تعلق رکھنے والے تاملوں پر غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ جو لوگ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کا تعلق شمالی حصے سے ہے اس لئے ان کا بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تامل ٹائیگرز کے شمالی دھڑے کے وفادار ہیں۔ روی پرشاد کے مطابق ’ تشدد کی وارداتیں تامل باغیوں کے درمیان پڑی پھوٹ کا نتیجہ ہیں۔‘ گزشہ ماہ تامل ٹائیگرز کے مشرقی حصے سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما یہ کہہ کر باغیوں سے الگ ہوگئے تھے کہ وہ مشرقی تاملوں کو شمال کے تاملوں کے امتیازی سلوک سے بچانا چاہتے ہیں۔ علیحدہ ہونے والے رہنما کرنل کرونا کے ایک ترجمان نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ مذکورہ دھمکی آمیز پرچے کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق ہے۔ تاہم یہ دھمکی اس اخبار کے صفحۂ اول پر شائع کی گئی ہے جو کرونا کے کنٹرول میں ہے۔ ایک تاجر نے بتایا ہے کہ وہ ان تامل باغیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں جو ان کے گھر پر آئے اور انہیں نکل جانے کے لئے کہا۔ مذکورہ تاجر نے خوف کے سبب اپنا نام نہیں بتایا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کرنل کرونا کے لوگ تھے۔ علاقے میں تعینات بین الاقوامی امن نگرانوں کا کہنا ہے کہ علاقے سے بہت سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں تاہم وہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||