امریکی افواج الزام سے بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام نے اپنی افواج کو افغانستان میں کئے جانے والے ان فضائی حملوں کے الزام سے بری کر دیا ہے جن میں گزشتہ دسمبر میں نو افغان بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج کے ترجمان برائین ہلفرٹی نے بتایا کہ تحقیقات کرنے والے افسر کے مطابق ہر چیز قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی تھی۔ انہوں نے غزنی صوبے میں ہونے والے حملے سے متعلق رپورٹ کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ چھ دسمبر اور اس سے ایک روز قبل کئے گئے ہوائی حملوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں ، حکومتِ افغانستان اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔ اقوامِ متحدہ چاہتا تھا کہ امریکی فوج کی رپورٹ سب کی سامنے پیش کی جائے لیکن فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی اپیل کے باوجود انکوائری کی رپورٹ خفیہ رکھی جائے گی۔ گزشتہ برس چھ دسمبر کے دن امریکی فوج نےایک گاؤں ہتالہ میں ٹینک شکن طیاروں کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں نو سے بارہ برس کی عمر کے نو بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد ایک مشتبہ افغان شدت پسند کو نشانہ بنانا تھا۔مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مطلوبہ شخص دس دن پہلے ہی گاؤں چھوڑ کر جا چکا تھا۔ اقوامِ متحدہ نے اس حملے کو قابلِ افسوس قرار دیا ۔انسانی حقوق کے کارکن حیران ہیں کہ ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لئے اتنے زیادہ اسلحہ کا استعمال کیوں کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||