افغان پناہ گزین اور سخت قوانین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکام ملک میں افغان پناہ گزینوں کے لئے سخت قوانین نافذ کررہےہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پناہ گزینوں کے وطن واپس جانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ نئے قوانین کے تحت افغان افراد کو خصوصی اجازت نامے یا ورک پرمٹ حاصل کرنا ہوں گے جن کے بعد ہی وہ ملازمت یا کرائے کا گھر حاصل کرسکیں گے یا بینک میں اپنے اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔ کئی ایرانی شہروں میں، جہاں بیروزگاری عام ہے، افغان پناہ گزینوں کے بسنے پر پابندی ہوگی۔ ایران میں تقریباً دس لاکھ افغان پناہ گزین بستے ہیں۔ دریں اثناء نیٹو افغان صدر حامد کرزئی کی اس درخواست پر غور کررہا ہے جس میں افغانستان میں انتخابات منعقد کروانے کے لئے نیٹو سے مدد طلب کی گئی ہے۔ یہ انتخابات جون میں منعقد ہونا ہیں۔ نیٹو کے سیکٹری جنرل جاپ دی ہوپ نے کہا ہے کہ کرزئی نے ادارے کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ انتخابات کے دوران سکیورٹی کے انتظامات کے لئے نیٹو افغان حکام کی مدد کریں۔ جاپ دی ہوپ کا کہنا تھا کہ ملک میں سکیورٹی کے انتظامات کی اصل ذمہ داری افغانستان ہی کی ہے تاہم نیٹو اس بات پر غور کررہا ہے کہ اس ضمن میں کس طرح افغانستان کی مدد کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||