وائن فروشوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں وائن فروش ملک میں مشروبات کی تشہیر پر لگنے والی پابندی سے پریشان ہوکر پارلیمان کا دروازہ کھٹکٹا رہے ہیں۔ فرانسیسی وائن فروشوں کا کہنا ہے کہ ان کی صنعت تو پہلے ہی بحران کا شکار تھی اس پابندی نے تو سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے اور اب تو ملک ہی میں نہیں بلکہ بیرون ملک بھی فرینچ وائن کی فروخت متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کے حکومت انیس سو اکانوے سے جاری مشروبات کی تشہیر پر عائد پابندی اٹھا لے۔ پیرس کے وائن کارک نامی ریسٹورنٹ کے لئے مشہور ہے کہ وہاں مچھلی کے ساتھ مینو کارڈ میں دس صفحوں پر کئی سو طرح کی وائن کا انتیخاب درج ہوتا ہے۔ وائن کارک کے مالک کا کہنا ہے کہ فرانسیسی عوام کے لئے وائن کوئی مشروب نہیں بلکہ جینے کا ڈھنگ ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں سے فرانسیسیوں نے وائن کا استعمال نصف کر دیا ہے۔ جہاں ایک فرانسیسی سالانہ ایک سو چھبیس لیٹر وائن پیا کرتا تھا اب وہیں فی کس کے حساب سےسالانہ یہ استعمال چھپن لیٹر ہو گیا ہے۔ مۓ کشوں کے مطابق اس کمی کی بیک وقت کئی وجوہات ہیں۔ کئی لوگ تو اس کا ذمہ دار نوجوان نسل کو ٹھہراتے ہیں جو وائن پر کوکا کولا کو ترجیح دیتے ہیں۔ یا پھر وہسکی جیسے سخت نشہ آور مشروبات کا رخ کرتے ہیں۔ فرانسیسی وائن کے ایک اور مداح کا کہنا تھا کہ مۓ نوشی کے بعد گاڑی چلانے کے سخت قوانین بھی اس گرتے ہوۓ رجحان کی ایک اہم وجہ ہیں۔ اور اگر دیکھا جاۓ تو ہم فرانسیسی طرز زندگی کا ایک اہم جز کھوتے جا رہے ہیں۔ یا یہ کہا جاۓ کہ اب کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ بیٹھے اور اطمینان سے فرانسیسی وائن کا لطف لے سکے۔ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں فرانسیسی وائن فروشوں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح وائن کی فروخت کم ہوتی رہی تو ان کے لئے روزی کمانا مشکل تر ہو جاۓ گا۔ برگنڈی وائن کے مالک کا کہنا ہے کہ ہم کسی فنکار سے کم نہیں، ہم ہر قدیم وائن کو ایک ماسٹر پیس بنانا چاہتے ہیں۔اور ہم اپنا یہ ذوق پینے والوں کے ساتھ بانٹناچاہتے ہیں۔ یہ تو تھی وائن بیچنے اور پینے والوں کی روداد مگر پیرس میں ہونے والے سالانہ زرعی میلے میں اس روداد کے کوئی آثار نہ تھے۔ جہاں نہ صرف کسانوں بلکہ وائن کے ماہروں کے چہرے بشاش اور مطمئین تھے۔ چاہےصورتحال کچھ بھی ہو، وائن کی صنعت سے وابستہ افراد فرانسیسی حکومت سے حمایت ضرور چایتے ہیں۔ اور اسی لئے وہ موجودہ ماہ میں ہونے والے مقامی انتیخابات سے قبل پارلیمان کے دروازو پر دستک دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||