’اوپر بھی کپڑے پہنیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے ابتدائی باشندوں جنہیں ابارجنیز کہا جاتا ہے ان میں پولیس کے اس فیصلے پر شدید کھلبلی مچ گئی ہے جس کے تحت پولیس نے ابارجنی خواتین کے بالائی دھڑ کو برہنہ کر کے روائیتی رقص پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایلس اسپرنگ نامی شہر کے ایک پارک میں ابارجنی افراد میں اس وقت غصے کی لہر دوڑ گئی جب پولیس نے انہیں اس طرح رقص کرنے سے روکنا چاہا۔ پولیس کے اس اقدام پر ابارجنی خواتین کا کہنا تھا کے بالائی دھڑ کو برہنہ کر کے رقص کرنے کی روائت ہزاروں برس قدیم ہے۔ ابارجنی اور ٹورس اسٹریٹ نامی کمیشن نے کہا ہے کے وہ اس پابندی کے خلاف باقاعدہ درخواست دائر کریں گے۔ اگر انسانی حقوق اور برابری کی سطح پر مواقعوں کی فراہمی والا کمیشن انہیں انصاف دلانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ افراد آسٹریلیا کے نسلی امتیاز کے قانون کے تحت وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ان افراد نے کہا ہے کے پولیس ان سے معافی مانگے، جبکہ پولیس کا کہنا کے اس کا یہ فیصلہ قابل تلافی نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||