واجپئی فون پر ووٹ مانگیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے اس سال کے انتخابات کے لئے نئے اور نوجوان ووٹروں کو اپنا ہمنوا بنانے کے منصوبے کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ بی جے پی کے انتخابی مہم کے مینیجر پرامود مہاجن نے بتایا کہ ’ای کیمپین‘ یا کمپیوٹر کے ذریعے انتخابی مہم چلانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ نئی نسل کے ووٹر بی جے پی کا ساتھ دیں۔ بے جے پی ٹیلی وژن پر موسیقی کے مختلف چینل، ایف ایم ریڈیو، موبائل فون اور ای میلز کے ذریعے اپنا پیغام اپنے ووٹروں تک پہنچانے کا انتظام بھی کرے گی۔ چار مرحلوں میں مکمل ہونے والے بھارت کے یہ انتخابات اپریل میں شروع ہوں گے۔ بے جے پی کا خیال ہے کہ بھارت کے چھ سو ملین ووٹروں میں سے ایک سو پچاس ملین ووٹروں کو ٹیلی وژن، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر رسائی حاصل ہے۔ بے جے پی کہتی ہے کہ نئی نسل کو اپنا ہمنوا بنانے سے پارٹی کئی نشستیں جیت سکتی ہے۔ ابتدائی طور پر پارٹی نے ایک کال سینٹر قائم کیا ہے جس میں ملک کے بہتر ملین ٹیلی فون کنکشنز کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ پارٹی کا منصوبہ ہے کہ ٹیلی فون پر وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کا ایک پیغام نشر کیا جائے گا جس میں وہ ووٹ مانگیں گے۔ تاہم پرامود مہاجن نے کہا کہ ’ای کیمپین‘ چلانے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ روایتی طور پر چلائی جانے والی انتخابی مہم کو ختم کر دیا جائے گا یا اس کا کوئی نعم البدل تلاش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہ عوامی جلسے بھی ہوں گے اور لوگوں کے دروازوں پر جا کر بھی ووٹ مانگا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بے جے پی اس مہم پر کتنی رقم خرچ کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||