کیا بھارت واقعی جگمگا رہا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابی نعرے دلوں کوگرماتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کے مضمرات بہت خطرناک ہو جاتے ہیں اور یہ نعرے بدقسمتی پر منتج ہو سکتے ہیں۔ انیس سو اکہتر میں اندرا گاندھی نے غربت کے خاتمے کا اعلان کیا لیکن ان کی انتخابی فتح کے بعد حزبِ اختلاف نے یہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا کہ غربت میں خاتمہ نہیں بلکہ اضافہ ہو رہا ہے۔ انیس سو نواسی میں جنتا دل نے اس انتخابی نعرے کے ساتھ انتخاب جیت لیا کہ ’راجیو گاندھی چور ہیں‘۔ تاہم اس نعرے کی حقیقت اس وقت کھل گئی جب جنتا دل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ سابق وزیرِ اعظم نے بوفوز اسلحے کے ٹھیکے میں مال بنایا تھا۔ اور اس مرتبہ بھارت کی انتخابی مہم میں جگمگاتے ہوئے بھارت کا نعرہ ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ کہیں یہی نعرہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مہنگا نہ پڑ جائے۔
حالات کچھ ایسے ہیں کہ باہر کی دنیا میں بھارت کا تصور نیا ہو گیا ہے۔ یہ محض انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کا کرشمہ نہیں ہے۔ بھارت بائیو ٹیکنالوجی میں بھی بہت شہرت کا حامل بن رہا ہے۔ بین الاقوامی بینک بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اکیسویں صدی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ لیکن صرف ماہرینِ اقتصادیات، سرمایہ کار یا صنعت کار ہی انتخابات نہیں جیتا کرتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام ووٹروں کی نظر میں بھی اقتصادی طور پر مضبوط اور سرمائے اور صنعت کے لحاظ سے طاقتور دکھائی دینے والا بھارت عروج پر ہے۔ اس کا جواب ہے کہ سارے بھارت میں تو ایسا نہیں البتہ کچھ حصوں میں بھارت کے متعلق ووٹروں کی رائے مثبت ہی ہے۔ متوسط طبقے کے لئے جنہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں نوکریاں مل رہی ہیں، بھارت یقیناً جگمگا رہا ہے۔ اگرچہ چند ماہرینِ اقتصادیات ہی یہ بات ماننے پر تیار ہیں کہ ہر سال اسی لاکھ نوکریاں نکل رہی ہیں۔ بھارت میں کامرس کے چیمبرز کی فیڈریشن کا خیال ہے کہ نوکریوں کا اتنی تعداد میں دستیاب ہونا صحت مند نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ پچاس سال میں دس مرتبہ مون سون کی اچھی بارشوں کے باعث جو معاشی بہتری ہوئی وہ دیرپا نہیں تھی۔
لہذا اگر بھارت کے شہروں میں یہ خیال ہے کہ بھارت جگمگا رہا ہے تو دیہات کے رہنے والے بی جے پی کی انتخابی مہم چلانے والوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ کس بات پرخوش ہوں اور نعرے لگائیں۔ نوکریاں نہ ہونے کی وجہ سےشہروں سے دیہاتوں میں چلے جانے والوں کو یہ باور کرانا مشکل کام ہے کہ اگلے انتخابات سے پہلے بھارت کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ حزبِ مخالف کی بڑی جماعت کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی تو پہلے ہی حکومت کے ان دعووں کو نشانہ بنا چکی ہیں کہ بھارت میں سب کچھ ٹھیک ہونے کو ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||