BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2004, 03:15 GMT 08:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایودھیا الیکشن موضوع نہیں ہے‘
-
بابری مسجد کے انہدام پر ملک بھر میں فسادات بھڑک اٹھے تھے
بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ مقام پر مندر کی تعمیر آئندہ ہونے والے انتخابات کا موضوع نہیں ہوگا۔

ہندو انتہا پسند اس مقام پر مندر کی تعمیر کے لئے مہم چلا رہے ہیں جہاں اتر پردیش میں انیس سو بانوے میں انہوں نے بابری مسجد کو گرایا تھا ۔انکا کہنا ہے کہ وہاں پہلے بھگوان رام کا مندر تھا جس کو گرا کر مسجد بنائی گئی تھی۔

انتہا پسند تنظیم وشو ہندو پریشد ، شو سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی جو اس وقت اپوزیشن میں تھی کے کارکنوں نے بابری مسجد گرائی تھی۔اور بی جے پی نے کئی مرتبہ اتخابات کے موقع پر اس موضوع کو اٹھایا ہے۔

لکھنؤ میں اپنے حلقے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم واجپئی نے کہا کہ رام مندر انتخابی موضوع نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ لوگوں کے جذبات سے جڑا ہوا ہے ہمیں اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے امید ہے کہ اس سمت ہونے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

وزیرِ اعظم نے کہاکہ یہ مسئلہ یا تو مذاکرات سے حل کیا جائے یا پھر عدلت کے ذریعے طے ہو ۔ وشو ہندو پریشد کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں عدالت کا فیصلہ تسلیم نہیں کریگی۔

بابری مسجد کے انہدام کے نتیجے میں ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ۔یہ فسادات بھارت کی سیکولر شناخت کو انیس سو سینتالیس کے بعد سب سے بڑا خطرہ تصور کئے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد