’لیبیا نے جوہری مواد بنا لیا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے نے کہا ہے کہ لیبیا نے بلیک مارکیٹ سے حاصل شدہ ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر تھوڑی سی مقدار میں پلوٹونیم بنا لیا تھا۔ ادارے کی طرف سے پلوٹونیم کی اس مقدار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا جو لبیا نے بنا لی تھی۔ تاہم ادارے کی جانب سے یہ ضرور کہا گیا ہے کہ جتنی مقدار میں لیبیا نے پلوٹونیم بنا لیا تھا اس سے جوہری بم تیار نہیں ہو سکتا تھا۔ دو ہزار تین میں لیبیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے منصوبے سے دستبرار ہو رہا ہے۔ مخفی طور پر جاری رہنے والے اس پروگرام کے لئے استعمال ہونے والے مواد اور آلات کو ٹکھانے لگانے کی نگرانی اب بین الاقوامی جوہری ادارہ کر رہا ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا نےخفیہ طور پر افژودہ یورنیم درآمد کیا تھا جسے بعد میں پلوٹونیم میں تبدیل کیا گیا اور پھر اس سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔ ادارے کے مطابق انیس سو اسی سے دو ہزار تین تک لیبیا کا اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مطلع نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس عرصے میں وہ بین الاقوامی تحفظ کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیبیا نے اپنے جوہری پروگرام کے لئے غیر ملکی ذرائع پر بہت زیادہ انحصار کیا۔ افژودہ یورینیم اور پلوٹونیم دونوں ہی جوہری بم بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ ادارے پہلے یہ کہتے رہے ہیں کہ لیبیا کا جوہری پروگرام کافی آگے بڑھ چکا تھا تاہم جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق یہ پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں ہی تھا۔ یہ رپورٹ جوہری توانائی کے ادارے کے ڈائریکٹر محمد البرادی نے تیار کی ہے جو اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں ادارے کے بورڈ کی میٹنگ میں پیش کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||