پھولن دیوی کا قاتل فرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق بھارت میں ایک ڈاکو سے سیاستدان بن جانے والی پھولن دیوی کے قتل کا مرکزی ملزم منگل کو دہلی کی جیل سے بظاہر ڈاکوؤں کے ایک گروہ کے ساتھ فرار ہو گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پھولن دیوی کے قتل کے الزام میں سن دو ہزار ایک سے ملک کی مشہور ترین تہاڑ جیل میں قید شمشیر سنگھ رانا نامی یہ ڈاکو منگل کی صبح فرار ہو گیا ہے۔ تاہم اس واقعہ کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ ہندی نیوز چینل ’ آج تک‘ کے مطابق شیر سنگھ رانا کو منگل ہی کے روز عدالت کے سامنے پیش ہونا تھا۔ وہ پولیس اہلکاروں کے پہرے میں جیل سے نکلا جو دراصل اس کے ڈاکو ساتھی تھے اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ شیر سنگھ رانا کو دہلی میں پھولن دیوی کے قتل کے کچھ ہی روز بعدگرفتار کر لیا گیا تھا اور پولیس کے مطابق اس نے اقرارِ جرم بھی کر لیا تھا۔ شیر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس نے پھولن دیوی کے ہاتھوں انیس سو اکیاسی کے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اعلیٰ ذات کے بائیس افراد کی ہلاکت کا بدلہ لیا تھا۔ پھولن دیوی کہ کہنا تھا کہ انہوں نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا بدلہ لیا تھا۔ پھولن دیوی کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہی تھیں، تین نقاب پوشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پھولن دیوی اس وقت بھارتی پارلیمان کی رکن تھیں۔ پھولن دیوی کو انیس سو اسی کی دہائی کی سب سے خطرناک ڈاکو تصور کیا جاتا تھا۔ جس کے بعد ہدایتکار نے پھولن دیوی کی زندگی پر فلم بنا کر انہیں ایک لافانی کردار بنا دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||