دہشتگردی کا منصوبہ بنایا تھا، شیخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے رہنما اور امریکہ پر گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی کے مبینہ ملزم خالد شیخ محمد نے اعتراف کیا ہے کہ سن دو ہزار دو میں طوکیو میں ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ مقابلوں میں بم دھماکوں کے ذریعے دہشت گردی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ جاپان کے باخبر ذرائع نے صحافیوں کو بتایا کہ خالد شیخ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ان دھماکوں کے ذریعے دہشت گردی کرنا چاہتے تھے مگر اس منصوبے کو اس لیے عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا کہ جاپان میں القاعدہ کا کوئی کے رابطوں کا کوئی منظم جال (نیٹ ورک) موجود نہیں تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد انیس سو پینسٹھ میں کویت میں پیدا ہوا اور انیس سو چھیاسی میں امریکی ریاست نارتھ کیرولا ئنا سے اپنی تعلیم کے تکمیل کے بعد انیس سو ستاسی میں تین ماہ تک ایک جاپانی ادارے کے تحت جاپان میں زیرتربیت رہا ہے۔ جاپان میں اپنے قیام کے دوران کے خالد شیخ محمد نے زمین اور چٹانوں کی کٹائی کی جدید مشینوں کے بارے میں تربیت حاصل کی اور ایسی ڈیڑھ سو کے قریب مشینوں کی خریداری بھی کی۔ واضح رہے کہ خالد شیخ محمد سے کی جانے والی تحقیقات کی روشنی میں جاپان کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر جاپان نے اپنی فوجیں طوکیو بھیجیں تو طوکیو پر خودکش حملے کیے جائیں گے۔ اس تنبیہ کے بعد جاپان نے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی مدد طلب کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||