BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 February, 2004, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبدیلیِ مذہب کی سزا
میر خاندان
میر خاندان بالآخر امریکہ روانہ ہو گیا
ایک افغان جوڑا اور اس کے چھ بچے پندرہ برس تک پاکستان میں بحیثیت مہاجر رہنے کے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔

میر خاندان کی مشکلات کا آغاز سن انیس سو اسی کے عشرے میں ہوا جب اس نے اسلام ترک کرنے کے بعد عیسائیت قبول کر لی۔

یہ خاندان برے سلوک سے خوفزدہ ہو کر افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان آ گیا لیکن یہاں بھی اسے زیادتیاں سہنا پڑیں۔

میر خاندان کو سن دو ہزار ایک میں امریکہ جانا تھا لیکن گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو امریکہ میں پیش آنے والے واقعات نے تمام صورت حال یکسر بدل ڈالی۔

تبدیلیِ مذہب کے باعث افغانستان میں پیش آنے والے ممکنہ خطرات سے بچ کر پاکستان میں ہزاروں افغان مہاجروں کے ہمراہ پناہ لینے والے میر خاندان کو ویسی ہی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے فرار حاصل کرنے کی غرض سے وہ پاکستان آیا تھا۔

بالآخر اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی یو این ایچ سی آر نے اس معاملے پر توجہ دیتے ہوئے میر خاندان کو امریکہ میں آباد کرنے میں مدد فراہم کی۔

امریکہ ان پندرہ ممالک میں سے ایک ہے جو دیگر ممالک میں زیادتی کا شکار افراد کو اپنی سرزمین پر آباد کرتے ہیں۔

جس روز صادق میر کے خاندان کو امریکہ روانہ ہونا تھا اسی روز امریکہ پر کئے گئے حملوں کے بعد میر خاندان یہ توقع کر رہا تھا کہ وہ چند روز بعد امریکہ کے لئے پرواز کرے گا۔

 امریکہ روانہ ہونے سے پہلے تک میر خاندان کا یہی کہنا تھا کہ انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔

تاہم میر خاندان کو امریکہ جانے کے لئے ڈھائی برس انتظار کرنا پڑا اور خاندان کے سینتالیس سالہ سربراہ صادق میر کو امریکہ کی طرف سے وضع کردہ نئے حفاظتی اقدامات کے باعث سخت چھان بین کا سامنا کرنا پڑا۔

بالآخر صادق میر کے خاندان کو امریکہ جانے کی اجازت مل گئی اور وہ اسلام آباد سے شکاگو کے لئے روانہ ہو گیا۔

امریکہ روانہ ہونے سے پہلے تک میر خاندان کا یہی کہنا تھا کہ انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔

انہیں امریکہ کے لئے روانہ ہونے کا اس وقت تک یقین نہیں آ رہا تھا جب تک کہ وہ بس پر سوار ہو کر ائرپورٹ کی جانب روانہ نہیں ہو گئے۔ یہی وہ وقت تھا جب میر خاندان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی اور خاندان کے افراد خوشی سے ہاتھ ہلا رہے تھے۔

بلاشبہ انہیں اسلام آباد کے مقابلے میں امریکہ پہنچ کر زیادہ سردی برداشت کرنی پڑے گی لیکن انہیں اس قدر مشکلات کا سامنا نہیں ہو گا جتنا انہیں پاکستان میں رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد