ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ایک نہیں دو حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک عدالت میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے کہ ستمبر گیارہ کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ایک نہیں دو حملے ہوئے تھے لہذا امریکہ کی اس بلند ترین عمارت کے مالک انشورش کمپنی سے ایک حملے کے بجائے دو حملوں کا ہرجانہ طلب کر سکتے ہیں۔ اس عمارت کے مالک لیری سلورسٹائیں نے دعوی کیا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ایک نہیں دو حملے کئے گئے تھے اور ان کو دو حملوں کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ تاہم انشورنس کمپنیوں نے اس دعوی کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمتبر گیارہ کو ہونے والے حملے دہشت گردی کی ایک ہی واردات تھی۔ اگر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے مالک کا دعوی مان لیا گیا تو انشورنش کمپنیوں کو انھیں تین ارب ڈالر کی جگہ سات ارب ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔ سلورسٹائیں کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کو ہونے والے ان حملوں میں پندرہ منٹ کا فرق تھا لہذا یہ دو مختلف حملے تصور کئے جائیں۔ سلورسٹائیں کو اگر زیادہ معاوضہ ادا کیا گیا تو اس رقم سے انھیں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ نئی عمارت بنانے میں مدد ملے گی اور وہ اگلے دس سالوں میں گراونڈ زیرو پر دیگر عمارتیں تعمیر کر سکیں گے۔ اور اگر ان کا دعوی رد کر دیا گیا اور انھیں کم معاوضہ ملا تو پھر ان کے تمام منصوبے التواء کا شکار ہو جائیں گے۔ نیوریارک کے مشہور علاقے مین ہیٹن کی ترقیاتی کارپوریشن کے سربراہ کیون ایم رامپ نے کہا ہے کہ اس عدالتی فیصلہ کا علاقے کی ترقی پر براہ راست اثر پڑے گا۔ گزشتہ سال سلورسٹائیں کے اس دعوی کو وفاقی اپیل عدالت نے رد کرتے ہوئے اسے جوری کو بھیج دیا تھا۔ اس سارے معاملے میں ایک مشکل یہ بھی پیش آ رہی ہے کہ سلورسٹائیں ستمبر گیارہ کے حملوں سے کافی عرصہ پہلے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پٹے پر مل گئی تھی لیکن اس کی انشورنس کے کاغذات پر دستخط نہیں ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||