BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 February, 2004, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھیل کو کھیل کے طور پر لیا جائے
برجناتھ
پاکستان اور بھارت کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کی خلیج اتنی گہری ہے جو کہ کرکٹ ٹیسٹ میچوں سے نہیں پاٹی جا سکتی۔

بھارت کے کرکٹ کے مشہور مبصر روہت برج ناتھ ، بی بی سی کے لیے اپنے پہلے کالم میں لکھتے ہیں کہ بھارت کو اگلے مہینے پاکستان کا دورہ کرنا ہے لیکن یاد رکھیں کہ کرکٹ کو ایک کھیل کی طرح نہیں لیا جا رہا اور یہ بڑی شرم ناک بات ہے۔

ہم میں بہت سے جذباتی لوگوں نے اس دورے کو آسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے کرکٹ مقابلے جو’ایشز‘ کے نام سے مشہور ہیں، سے موازنہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ موازنہ بہت غیر منصفانہ ہوگا۔

صرف اعدادِ شمار سے ہی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ موازنہ غلط ہے۔

بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کےخلاف سینتالیس میچ کھیلے ہیں جس میں سے پانچ بھارت نے اور نو پاکستان نے جیتے ہیں جبکہ تینتیس برابر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے یہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف غیر ضروری طور پر احتیاط سے کھیلتی ہیں۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں نے انیس سو اڑتالیس کہ بعد سے اب تک ایک سو پچاس ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں۔

News image
سچن موجود ٹیم میں واحد کھلاڑی ہیں جو پاکستان میں کھیل چکے ہیں

میرے خیال میں ’نفرت‘ ہمارے راستے میں حائل ہے۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی ماضی کی کچھ تلخ یادوں کے ساتھ کھیلتے ہیں لیکن یہ تلخیاں زیادہ تر کھیل تک ہی محدود ہیں اور ان کا مقابلہ بلے اور گیند کے درمیان ہوتا ہے۔

طنز ہوتا ہے، ایک دوسرے کا تمسخر اڑیا جاتا ہے لیکن ایک حدد تک۔ جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے تو جنگ کا سماں پیدا ہو جاتا ہے جیسے طبلِ جنگ بجتا ہے اور ایک خوفناک مقابلہ بازی شروع ہو جاتی ہے۔

اس سے ہماری ٹیموں کی بہترین صلاحتیں تو سامنے لانے میں مدد ملتی ہے لیکن ہم میں تلخی بڑھ جاتی ہے۔

ایک ٹی وی چینل نے ان مقابلوں کو ’ایل او سی‘ سیریز کا نام دینا شروع کر دیا ہے۔ بظاہر ایل او سی سے انکا مطلب کرکٹ کے شیر اور کشیمر کو تقسیم کرنے والی سرحد نہیں لیکن اس سے واضح ہوتا ہے کہ حماقت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

آئیے لاہور اور کراچی میں جا کر کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کھیلوں کے مقابلے زخم بھر دیتے ہیں وہ ہانس کرسچن اینڈرسن کی اس کہاوت کا بہت زیادہ مطلب نکال رہے ہیں۔

اولمپک کے مقابلوں ہمیشہ عالمی امن کی تقریروں سے شروع ہوتے ہیں لیکن ان تقریروں پر ہسنے کو جی چاہتا ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے کھلاڑی اولمپکس میں ایک ساتھ شریک ہوتے ہیں لیکن ان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کم نہیں ہوتی۔

میں سنکی نہیں ہوں لیکن کھیلوں کی علامتی حیثیت محدود ہوتی ہے اور پاک بھارت کشدیگی صرف کرکٹ میچوں سے ختم نہیں ہو سکتی

News image
میچوں میں وقفہ ہونا چاہیے، بھارتی کھلاڑیوں کا مطالبہ

کرکٹ کی سفید وردی پہنے ان کھلاڑیوں سے یہ امید نہیں کی جانی چاہئے کہ جو کام سفارت کار پچاس سال میں نہیں کرسکے وہ یہ کھلاڑی کھیل کے میدان میں کر دکھائیں گے۔ وہ سفارت کاری کی باریکیوں سے واقف نہیں ہیں وہ تو ’کوور ڈرایوز‘ کھیلنے کے ماہر ہیں۔

کھلاڑی اس دورے کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں۔ کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ پاکستان میں صدر مشرف پر ہونے والے حملوں کی خبریں پڑھتے ہیں اور ان کا پریشان ہونا قدرتی عمل ہے۔

پاکستان جانے میں کتنا خطرہ ہے؟ وہاں پر حالات کیسے ہیں؟ کھلاڑیوں کا یہ سوال کرنا بلکل قدرتی ہے۔

ماضی میں پاکستان دورہ کرنے والے کسی بھارتی کھلاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کوئی بھی گروہ یا شدت پسند تنظیم ایسا کرے گی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ لیکن دہشت گردی کی توجیح نہیں ہوتی، خودکش حملہ آوروں کے لیے کوئی جواز نہیں ہوتا سوائے اس کہ بدامنی اور انتشار پھلایا جائے۔

دنیا بہت بدل گئی ہے اور اخبار نہ پڑھنے کا اقرار کرنے والے کرکٹ کھلاڑی بھی اس سے آگاہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی کھلاڑیوں نے جگموہن ڈالمیا کو لکھا ہے کہ پاکستان کے دورے سے پہلے انہیں تین سے چار ہفتے آرام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پے در پے میچ نہیں ہونے چاہیں اور انہوں نے حفاظت کے بارے میں بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹیم کے لیے ایسے حفاظتی انتظامات کئے جائیں گے جیسے کہ وزراء اعظم کے لیے کئے جاتے ہیں اور پاکستانی بلاشبہ ٹیم کا خیال رکھیں گے اور مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

لیکن اگر کھلاڑیوں کو کمرے میں بند کر دیا جائے، انہیں لوگوں سے ملنے جلنے کا موقع نہیں ملے اور ان کو مسلح پولیس والوں کے سایوں میں ہوٹل سے میدان تک لیے جایا جائے تو کیا یہ ماحول کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں ہے؟

جو لوگ اسے کرکٹ سے زیادہ سفارت کاری سمجھتے ہیں، کیا سفارت کاری ایسے ہوتی اور کیا سفارت کار روم سروس کے ذریعے سفارت کاری کر سکتے ہیں۔

باشعور لوگ چاہتے ہیں کہ جن ملکوں کے درمیان اس قدر مطابقت پائی جاتی ہو انہیں اپنی دشمنیاں ختم کر دینی چاہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں خون ریزی بند ہو اور جوہری ہتھیاروں ختم کئے جائیں۔

لیکن کرکٹ یہ سب کچھ نہیں کر سکتی۔

اس دورے کے دوران ہمیں یہ سب باتیں یادرکھنی چاہیں۔

انیس سو ننانوے میں فاتح پاکستان ٹیم کومدراس اسٹیڈیم میں موجود لوگوں نے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ خوش گوار لمحے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنے چاہیں۔

اس دن کھیل کو کھیل کی طرح لیا گیا اور ہمیشہ یہی ہونا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد