بچے سمیت دو فلسطینی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے میزائل حملے میں ایک چودہ سالہ فلسطینی بچہ اور اسلامی جہاد کے رہنما عبداللہ الشامی کا عمزاد اور ذاتی محافظ ہلاک ہو گیا ہے۔ ذاتی محافط عزیز الشامی کا انتقال اسپتال پہنچ کر ہوا۔ اس حملے میں ان کی ٹانگ کٹ گئی تھی۔ اس حملے میں کم سے کم نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی پر میزائل داغا جس سے گاڑی کے پرخچے اڑ گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کا نشانہ بقول ان کے ایک دہشت گرد تھا جو اسرائیلی فوج پر حملوں میں ملوث ہے اور آئندہ مزید حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ غزہ میں اسلامی جہاد کے ترجمان محمد الہندی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کا نشانہ فلسطینی شہری ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے حملوں سے اسلامی جہاد کی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عینی شاہدوں کے مطابق جس وقت یہ حملہ کیا گیا اس وقت اسرائیلی فضائیہ کے طیارے علاقے پر پرواز کر رہے تھے۔ اسرائیلی اکثر حماس اور دوسری تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کو ہلاک کرنے کے لیے فضائی طاقت کا استعمال کرتا ہے۔ ابھی یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ کیا عبداللہ شامی حملے کے وقت گاڑی میں موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||