ابو سالم کو بھارت کے حوالے کیا جائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرتگال کی ایک عدالت نےسزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کے بعد ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ابو سالم کو بھارت کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ بھارت ابو سالم کو ممبئی بم دھماکوں کا ملزم قرار دیتا ہے۔جن سے دو سو ستّاون افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اپنے حکم میں لسبن کی حدالت نے کہا کہ ابو سالم کو بھارت کے حوالے کیا جا سکتا ہے کیونکہ بھارت نے یہ یقین دلایا ہے کہ قصوروار پائے جانے پر بھی ابو سالم کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ یوروپی یونین کےملک اپنے ملک میں گرفتار ہونے والے کسی بھی شخص کو عدالتی کاروائی کے لئے کسی ایسے ملک کے حوالے نہیں کرتے جہاں انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہو۔ابو سالم کے وکیل اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ ابو سالم ساڑھے چار سال سے پرتگال کی ایک جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ وہاں ان پر جعلی دستاویز کے استعمال کرکے گرفتاری سے بچنے کے الزام ہیں۔ انکی محبوبہ مونیکا بیدی بھی اِسی الزام میں دو سال کی سزا کاٹ رہی ہیں ان پر بھی جعلی دستاویز استعمال کرنے کا الزام ہے۔ بھارت کی حکومت نے لسبن کی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بھارت کی قومی سلامتی کے لئے اہم قرار دیا ہے۔ بھارت نے پرتگال کو یقین دلایا ہے کہ قصوروار ثابت ہونے پر ابو سالم کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||