| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مناسکِ حج عروج پر
سعودی عرب میں حج کی ادائیگی کے دوران دس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے عرفات کی پہاڑی پر چڑھنے کا آغاز کر دیا ہے۔ لاکھوں زائرین حج احرام باندھے مکہ سے اٹھارہ کلو میٹر دور واقع اس پہاڑی پر مختلف مذہبی فرائص انجام دیں گے۔ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جو ہر صاحبِ حیثیت اور صحت مند مرد و عورت پر زندگی میں ایک بار کرنا فرض ہے۔ ریاض میں گزشتہ برس ہونے والے بم حملوں کے بعد اس برس حج کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مکہ کی بڑی مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد حجاج منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں جا بجا خیمے نصب کئے جاتے ہیں تاکہ وہ عرفات جانے سے پہلے رات بھر آرام کر سکیں۔
اگرچہ عرفات منیٰ سے صرف ڈھائی میل دور واقع ہے لیکن سڑکوں پر موجود ٹریفک کے باعث بعض لوگوں کو وہاں پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس کام کے لئے ہزاروں بسیں استعمال کی جاتی ہیں جبکہ بہت سے حاجی ذاتی گاڑیوں پر جاتے ہیں۔ حاجیوں کے بے انتہا ہجوم اور زیادہ ٹریفک کے باوجود ایک پولیس افسر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’سب کچھ ٹھیک آگے بڑھ رہا ہے‘۔ سنیچر کی صبح حاجیوں کی بہت بڑی تعداد نے عرفات کی پہاڑی کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔ حج کی رسومات اتوار کو اختتام پذیر ہو جائیں گی جس کے بعد مسلمان عید الاضحیٰ کا تہوار منائیں گے اور جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||