BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2004, 02:23 GMT 07:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ: قیدیوں کا خیر مقدم
شیخ عبدل کریم عبید
شیخ عبدل کریم عبید کا بیروت میں پُر تپاک خیر مقدم

بیروت میں لبنان کے صدر سمیت ہزاروں افراد نے اسرائیل کی قید سے رہا ہو کر آنے والے حزب اللہ کے ارکان کا زبردست خیر مقدم کیا ہے۔

اسرائیل میں بھی حزب اللہ کی طرف سے ملنے والی تین فوجیوں کی لاشوں کی آمد پر بھی ان کے اعزاز میں خصوصی پروگرام ہوئے۔

اسرائیلی حکام نے لبنانی قیادت کے ساتھ معاہدے کے تحت چار سو فلسطینی اور کچھ عسکریت پسندوں کی لاشیں ان کے حوالے کی ہیں۔

یروشلم میں خود کش حملے کے باوجود اس متنازعہ معاہدے پر پروگرام کے مطابق عمل درآمد ہوا۔

بیروت میں سینکڑوں افراد نے سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر رہا ہو کر آنے والے افراد کا خیر مقدم کیا۔

رہائی پانے والوں میں حزب اللہ کے اعلیٰ قائد شیخ عبدل کریم عبید بھی شامل تھے جو پندرہ سال سے اسرائیل کی قید میں تھے اور ایک اور رکن مصطفیٰ درانی دس سال بعد رہا ہوئے ہیں۔

حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے یہ کہتے ہوئے کہ ’یہودی ریاست کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘ عندیہ دیا کہ مزید لبنانی قیدیوں کی رہائی کے لئےمزید اسرائیلیوں کو اغوا کیا جائے گا۔

اسرائیلی سیاست دان پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اس معاہدے کی مخالفت کر رہے تھے۔

رہائی پانے والے افراد جرمنی سے ایک ایر بس کے زریعے لبنان لایا گیا۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان یہ معاہدہ جرمنی کی وساطت سے طے پایا گیا۔ اس معاہدے کی تکمیل کئی سالوں کے مذاکرات کے بعد ہوئی۔

بی بی سی کے تجزیہ نگار راجر ہارڈی نے کہا کہ اسرائیل ہمیشہ اپنے شہریوں کی رہائی کے لئے تیار رہتا ہے لیکن اس کے لئے اسے بھاری قیمت دینا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے عربوں کے خیال میں حزب اللہ نے چار سال قبل اسرائیل کو جنوبی لبنان سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور اب ایسے وقت میں جب عرب دنیا میں خوشی کا کوئی اور بہانہ نہیں ہے قیدیوں کی رہائی بھی اس کی کامیابی کے طور پر دیکھی جائے گی‘۔

بہت سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ جن قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے انہیں ویسے ہی عنقریب چھوڑے جانا تھا۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مزید قیدیوں کی رہائی کے لئے ابھی معاہدہ نہیں ہوا۔

اسرائیل حزب اللہ کے قائدین کی رہائی کے بدلے بیس سال قبل اپنے ایک لاپتہ ہونے والے ایر مین کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ معلومات پچیس سال سے اسرائیل کی قید میں سمیر قنطار کی رہائی کے بدلے میں حاصل ہو سکتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد