| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یہ ہیں باکسر، ذرا بچ کے‘
بھارت میں اس وقت ایک سو پچاس خواتین باکسرز ہیں اور کلکتہ سے تعلق رکھنے والی ان خواتین میں سے بیشتر مسلمان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لیلٰی علی سے متاثر ہیں جو ماضی کے معروف باکسر محمد علی کی بیٹی ہیں۔ تئیس سالہ رضیہ شبنم بھی انہیں باکسرز میں سے ایک ہیں۔ وہ صبح سویرے کلکتہ میں اپنے گھر سے نکلتی ہیں اور شہر کے سر سبز باغات میں خوب دوڑتی ہیں۔ راہگیر ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں ’یہ ہیں باکسر، ذرا بچ کے‘۔ شبنم نے ایک جانی پہچانی باکسر بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پار کی ہیں۔ گھر والوں، رشتہ داروں کی مخالفت اور معاشرتی دباؤ۔ اب وہ بھارت کی پہلی معروف مسلمان باکسر ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ریفری بھی ہیں۔ دلچسپ پات یہ ہے کہ یہ ان مسلمان خواتین کے لئے ’پائیڈ پائیپر‘ کا کردار ادا کررہی ہیں جو باکسنگ سیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں جہاں خاص طور پر مسلمان خواتین پسماندہ زندگی گزار رہی ہیں، یہ کرنا کچھ آسان نہیں ہے۔ شبنم اور دیگر تین خواتین کی پہلی باکسرز ہیں جنہوں نے ہمت کی اور اس میدان میں سامنے آئیں۔ بھارت میں اس کھیل کے ذریعے زیادہ پیسے نہیں بنائے جاسکتے۔ اگرچہ یہ خواتین متاثر تو لیلٰی علی سے ہیں لیکن ان کا طرز زندگی لیلٰی سے بہت مختلف ہے۔ یہ غربت کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ یہ خواتین ایک قریبی پارک میں لکڑی سے بنائے گئے باکسنگ رنگ میں پریکٹس کرتی ہیں جہاں ناصرف مچھروں کی بھرمار ہے بلکہ ہیروئن پینے والوں کا ڈیرہ بھی ہے۔ یہ ایک کمرے پر مشتمل گھروں میں بڑے خاندانوں کے ساتھ رہتی ہیں جہاں کپڑے تبدیل کرنے کے لئے بھی پڑوس کا کمرہ خالی ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ان کے کھانے کے لئے بھی مناسب خوراک دستیاب نہیں ہے پھر بھی ان خواتین باکسرز میں باکسنگ سیکھنے کا جوش و ولولہ موجود ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کھیل کے ذریعے ان کی زندگی ضرور بدلے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||