BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 January, 2004, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گول ہے سو روٹی ہے

روٹی کا سوال

’سعودی عرب میں ایک بچی پیدا ہوئی جس نے پیدائش کے فوراً بعد چلنا شروع کر دیا۔ جب وہ گھر سے باہر جانے لگی تو ماں باپ نے اسے روکنے کی کوشش کی، جس پر بچی نے ان سے کہا کہ اسے نہ روکا جائے کیونکہ وہ غریبوں کی بھوک کا علاج کرنے جا رہی ہے۔

’یہ بچی ایک نانبائی تک پہنچی اور اس کے تنور میں گر کر جل گئی۔ نانبائی نے پولیس کے خوف سے جلی ہوئی بچی کو سوکھی روٹیوں کے ساتھ بوری میں بند کر دیا اور کچھ دنوں کے بعد جب وہ بوری کو سمندر میں پھینکنے لگا تو اس میں سے آواز آئی: ’گھبراؤ نہیں، میں مری نہیں بلکہ روٹی بن گئی ہوں - - - ‘

یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ دبئی جیسی جگہ میں جہاں قدیم رویے جدید علوم سے مسلسل نبرد آزما ہیں، افواہوں اور مافوق الفطرت واقعات کی اتنی بھرمار رہتی ہے کہ کسی ایک کہانی کو ایک نشست میں پورا سن لینا بھی بعض اوقات ممکن نہیں ہوتا۔ دبئی کے مختلف چائے خانوں کے کئی پھیرے لگانے کے بعد مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ وہ جادوئی روٹی سفر کرتے کرتے یہاں بھی پہنچ چکی ہے اور حاجت مندوں کی مدد کے لئے ایک سے دو ہوتی جا رہی ہے۔

بہت سوں کے لئے ایسی کہانیاں نری لغویات ہیں، لیکن کچھ ان کو معجزے جان کر ان پر یقین کرتے ہیں۔ ایک ریستوران میں کام کرنے والے عزیز الرحمن جب انتہائی سنجیدگی سے یہ ’سچی کہانی‘ بیان کر رہے تھے تو کئی گاہک وقتاً فوقتاً اثبات میں سر ہلا کر ان کی تائید کر رہے تھے۔

روٹی کا سوال
ایک روٹی سے دو - - -

’بچی نے کہا مجھے اپنے گھر لے جاؤ اور ایک پاک صاف برتن میں کسی محفوظ مقام پر رکھ دو۔ ایک ہفتے کے بعد برتن کھولنا تو تمہیں اس میں دو روٹیاں ملیں گی۔ ان میں سے ایک کو دو ریال میں فروخت کر دینا جبکہ دوسری کو اسی طرح رہنے دینا۔ ایک ہفتے کے بعد پھر اس برتن میں دیکھنا تمہیں پھر اس میں دو روٹیاں ملیں گی۔ اب ان دونوں روٹیوں کو چار ریال میں فروخت کر کے وہ چھ ریال کسی پاک صاف برتن میں محفوظ کرو اور پورے چالیس دن برتن کا ڈھکن مت کھولو۔

’نماز روزے کا اہتمام کرو اور اکتالیسویں روز پاک صاف ہو کر نیک نیتی کے ساتھ برتن کو کھولو گے تو وہ سکے حسب ضرورت بڑھ چکے ہوں گے اور یہ پیسے کبھی ختم نہیں ہونگے‘۔

یہ ’روٹی‘ دبئی کی ایشیائی برادریوں میں یکساں مقبول ہے اور بیشتر لوگ اوپر بیان کی گئی کہانی سے واقف ہیں۔

محمد حسین نے جنکا تعلق سرگودھا سے ہے، بتایا کہ ان کے پاس ایسی روٹی موجود ہے اور وہ اسے بیچنا چاہتے ہیں تاکہ اگلے چالیس روز تک دولت مند بننے کے انتظار میں گزار دیں۔

میں نے ان سے روٹی خرید لی۔ برتن کا ڈھکنا اٹھایا تو روٹی تو دکھائی نہیں دی لیکن گندھے ہوئے آٹے جیسی لجلجی سی کوئی گول چیز تھی جسے میں اپنے ساتھ گھر لے آیا اور عزیز کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ایک ہفتے کے لئے اسے ایک الماری میں رکھ دیا اور ہر روز اس میں بغیر دودھ کی چائے اور شکر ڈالتا رہا۔

ٹھیک ایک ہفتے بعد میں نے برتن کا ڈھکن اٹھایا تو یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ایک روٹی کے اوپر دوسری روٹی آچکی تھی۔ اب میں نے زیادہ دھیان سے مختلف لوگوں سے اس بارے میں سوال پوچھنے شروع کئے۔

بھارت کی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ابوبکر، بشیر اور صلاح الدین نے بتایا کہ یہ چیز ان کے علاقے میں آدلییہ پتری یعنی کمال والی روٹی کے نام سے جانی جاتی تھی، اسکا پانی پینا ہر بیماری کا علاج تصور کیا جاتا تھا اور اس کی تعریف میں گانے بھی گائے جاتے تھے۔

ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر نے جن کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے، اسے ایک شعبدہ قرار دیا مگر ان کے دوسرے دو ساتھیوں نے کہا کہ کشمیر میں عورتیں یہ روٹی گھروں میں برکت کیلئےرکھتی ہیں۔ اور یہ کہ یہ روٹی مکّے سے چل رہی ہے۔

منیرہ میڈیکل کلینک کے ڈاکٹر زاہد علی نے پوری کہانی کو جہالت پر مبنی قرار دیا۔ تاہم ’روٹی‘ کی ساخت کی بارے میں وہ کچھ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر خود ہی دماغ لڑایا تو یہ ’روٹی‘ بنانے کا طریقہ بھی سمجھ میں آ گیا۔ اور اس کے لیے آپکو کسی سائنسی تجربہ گاہ کی بھی ضرروت ہے۔

روٹی کا سوال
آپ بھی یہ جادو کر سکتے ہیں

سیلمانی (بغیر دودھ) چائے میں شکر ملا کر ایک پتیلی نما برتن میں آٹھ دس روز تک رکھ دیجیے اس کے بعد برتن کا ڈھکنا کھولئے اور کمالات سے بھرپور عجیب و غریب روٹی حاصل کیجئے۔ پھر اس میں مزید چائے کی پتی اور چینی پانی کے ساتھ ملا کر ڈالئے، مزید ایک ہفتے کے بعد یہی ایک روٹی دو بن جائے گی۔ اور اس طرح دو سے چار، چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ بناتے جائیے۔

چاہیں تو کسی اچھی اور مناسب کہانی کے ساتھ ان روٹیوں کو درہم، دو درہم میں فروخت کرتے جائیں۔ یہ اندر کی بھوک ہی ہے جس نے روٹی کو بزرگی کے مقام پر فائز کر رکھا ہے۔ اور شاید اسی لیے بھوکے آدمی کو ہر گول چیز روٹی ہی نظر آتی ہے ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد