| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے لاؤشہ
لاؤشہ 1899 میں بیجنگ میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام شو چھنگ تھا۔ لاؤشہ کا نام منفرد انداز تحریر اور ثقافتی انقلاب کے دوران چینی ریڈگارڈز کے ہاتھوں ان کے المناک انجام کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ لاؤشہ کا تعلق منچو قوم سے تھا۔ یہ وہی منچو قوم ہے جس نے چین کے آخری شاہی دور میں چین پر حکومت کی۔ لاؤشہ کے والد ایک فوجی محافظ تھے جو باکسر تحریک کے دوران ہونے والے فسادات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے مارے گئے۔ لاؤشہ نے پیکنگ ٹیچرز کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سترہ سال کی عمر میں ایک ایلیمنٹری سکول کے پرنسپل کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1924 سے 1929 تک انہوں نے لندن کے سکول آف اورئینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز میں چینی زبان پڑھائی۔ اسی دور میں انہوں نے اپنے پہلے ناول کا آغاز کیا۔ چین واپس آنے کے بعد انہوں نے لکھائی کے ساتھ ساتھ پڑھانے کا کام جاری رکھا۔ 1933 میں ان کا ناول ماؤچھنگ شہ (بلی کا دیس) منظر عام پر آیا۔ جس میں اس دور کی تلخیوں کا اثر نمایاں نظر آتا ہے جس کا اظہار انہوں نے تلخ طنزیہ انداز سے کیا۔ لیکن بعد میں آنے والی ان کی تحریروں میں مزاح کا عنصر زیادہ نمایاں ہے۔ چین اور جاپان کے بیچ ہونے لڑائی (1945-1937) نے لاؤشہ کی سوچ کو بہت متاثر کیا۔ اس دوران انہوں نے جو ڈرامے لکھے ان میں انہوں نے جاپانیوں کے خلاف اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ اسی دور میں لاؤشہ آل چائنا اینٹی جیپنیز رائٹرز فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ 1946 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے لاؤشہ کو امریکہ مدعو کیا۔ 1949 تک انہوں نے امریکہ میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا نئے چین کے قیام کے بعد وہ واپس وطن آگئے۔ واپس آ کر انہوں نے بطور ممبر کلچرل اینڈ ایجوکیشن کیمٹی‘ ڈپٹی نیشنل پیپلز کانگرس‘ ممبر اسٹینڈنڈنگ کیمٹی آف چائنیز پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس‘ وائس چیئرمین آل چائنا فیڈریشن آف لیٹریچر اینڈ آرٹ‘ وائس چیئرمین آف دی یونین آف چائنیز رائٹرز اور چیئرمین بیجنگ فیڈریشن آف لیٹریچر اینڈ آرٹ کام کیا۔ انہیں ان گراں قدر خدمات کے نتیجے میں ’عوامی فنکار‘ اور ’مولائے زبان‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا لیکن 1966 میں ثقافتی انقلاب کے آغاز کے بعد ان کے اعزازات ان کے لیئے عذاب بن گئے۔ جرنل لن بیاؤ ( جو چیئرمین ماؤ کا دست راست تھا لیکن 70 کے عشرے کے آغاز میں اس نے چیئرمین ماؤ کے خلاف ایک خطرناک شازش تیار کی۔ سازش کی ناکامی کے بعد وہ اپنے خاندان سیمت ملک سےفرارہو گیا لیکن حکام نے اسے زیادہ دور نہ جانے دیا اور منگولیا کی فضائی حدود میں اس کا جہاز مارگرایا) اور چار کے ٹولے نے لاؤشہ کی تحریروں کو انقلاب دشمن قرار دیا۔ لاؤشہ کو ریڈگارڈز میں شامل مڈل سکول کے لڑکوں نے گرفتار کر کے بہت مارا پیٹا اور انہیں اپنے خلاف توہین آمیز جملوں والے پلے کارڈز کا ہار پہننے پر مجبور کیا گیا۔ لاؤشہ اگلے دن چھوٹ کر جب گھر پہنچے تو ان کا سارا سامان ریڈگارڈز کے ہاتھوں لٹ چکا تھا اور ان کی سب کتابیں اور پینٹینگز ضائع کر دی گئی تھیں۔ چند روز بعد 24 اکتوبر 1966 کو ان کی لاش ان کے گھر کے پاس واقع تھائے پنگ جھیل سے ملی۔ انکی پراسرار موت کے بارے میں متضاد خبریں سننےکو ملتی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں لاؤشہ اس قدر توہین برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے خودکشی کو ذلت آمیز زندگی پر ترجیح دی۔ لیکن کچھ ان کی موت کو ریڈگارڈز کے ہاتھوں قتل کا نام دیتے ہیں۔ سچ کچھ بھی ہو وہ خود اپنے ہی تخلیق کیے ہوئے کہانی کے کرداروں میں سے ایک کردار معلوم ہوتے ہیں ۔
ثقافتی انقلاب کے دوران ادباء‘ شعرا‘ اساتذہ اور دوسرے اہل شعور لوگوں کوملک دشمن قرار دے کر ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ 1978 سے چینی حکومت نے لاؤشہ کے کام کو دوبارہ چھاپنا شروع کیا۔ بیجنگ کی مشہور وانگ فوجنگ سٹریٹ کے برابر میں واقع ان کے گھر کو اب میوزیم میں بدل دیا گیا ہے۔ وہاں ایک چھوٹا سا کتب خانہ بھی ہے جہاں لاؤشہ کی کتابیں اور ان سے متعلق دوسری اشیاء رکھی گئی ہیں۔ 1988 میں اس علاقے میں ان کی نام سے موسوم ایک قہوہ خانہ قائم ہوا جہاں نہ صرف چینی بلکہ بے شمار غیر ملکی بھی لاؤشہ سے اپنے لگاؤ کا اظہار کرنے جاتے ہیں۔ لاؤشہ نے بے شمار کہانیاں‘ ڈرامے اور ناول لکھے۔ ان کے ایک ناول رکشا بوائے (لوتھوشیانگز) نے بہت زیادہ شہرت حاصل کی ہے اور اس کا دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کا شمار امریکہ میں سب سے زیادہ بکنے والے ناولوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک غریب محنتی نوجوان ’شیانگز‘ کی کہانی ہے جس کا اس دنیا میں کوئی پرسان حال نہ تھا۔ حد تو یہ تھی کہ اسے اپنا خاندانی نام بھی یاد نہ تھا۔ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کسی کا اونٹ (چینی زبان میں اونٹ کو لوتھو کہتےہیں) چرا لیتا ہے اور پکڑا جاتاہے۔ اس کے بعد لوگ اسے لوتھو (اونٹ) شیانگز کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس ذلت آمیز نام سے اس کے خاندانی نام کی خالی جگہ تو پر ہو جاتی ہے لیکن اس نام کی وجہ سے عمر بھر اس کا ماضی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ وہ 1920 میں روزگار کی تلاش میں اپنا گاؤں چھوڑ کر بیجنگ آتا ہے جہاں اسے ایک رکشہ کمپنی میں کام مل جاتا ہے۔ یہ اس دور کا قصّہ ہے جب بیجنگ مقامی وارلارڈزکی طاقت آزمائی اور جاپانی حملہ آوروں کی لوٹ کھسوٹ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ نیشنلسٹ حکومت جاپانی حملہ آوروں کے خلاف قوم کو یکجا کرنے کی بجائے کیمونسٹوں کو ختم کرنے میں مصروف تھی۔ پرکشش چینی خدوخال کا مالک خوشحال مستقبل کے خوابوں اور زندگی کی امیدوں سے لبریز شیانگز رات دیر گئے تک لوگوں کو اپنے رکشا پر لادے شہر بھر میں گھومتا رہتا۔ رات کو تھکن سے چور گھر واپس جاتے ہوئے وہ اکثر اپنے نام پر غور کرتا اور خود سے کہتا ’ میں ایک لوتھو (اونٹ) ہی تو ہوں جو دن رات اونٹ کی طرح لوگوں کو رکشے میں لاد کر پھرتا رہتا ہے‘۔ اس کے رکشا کھینچنے کی شاید کوئی ادا رکشا کمپنی کے مالک کی بیٹی کو پسند آجاتی ہے اور عمر کے دس سال کے فرق کے باوجود اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔لیکن شیانگز اس میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ آخر کسی طرح وہ لڑکی کے جال میں پھنس جاتا ہے اور ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ زچگی کی دوران اس کی بیوی اور بچے کی موت ہو جاتی ہے وہ اپنی ساری جمع پونجی تدفین پر خرچ دیتا ہے۔ پھر جوانی ڈھل جاتی ہے اور اس میں رکشا کھینچنے کی طاقت باقی نہیں رہتی۔ وہ پیٹ کی خاطر پیسے لے کر کبھی جنازوں میں بین کرتا اور کبھی پولیس کا مخبر بن جاتا ہے۔ اس کی بیچارگی یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ سرد راتوں میں گلیوں سے سگریٹ کے ٹکڑے اٹھا کر پینے لگا۔ آخر سردیوں کی ایک برفانی رات میں اس کا انتقال ہو جاتاہے۔ اس ناول میں لاؤشہ نے اس دور میں چینی عوام کی بے بسی کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔ زندگی کی انفرادی جدوجہد کی بنیاد پر قائم شیانگز اس دور کا ایک نمائندہ کردار ہے۔ جو ساری عمر تنہا خوابوں کی تعبیر کی حصول کی خاطر حالات سے لڑتا لڑتا ایک دن زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی پر مبنی کئی فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بن چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||