| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لویہ جرگہ، تعطل دور کرنے کی کوششیں
افغانستان میں نئے آئین کی منظوری کے لئے جاری لویہ جرگہ میں تعطل کو دور کرنے کے لئے اقوام متحدہ اور امریکی حکام نے بھی اپنی سی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ دارلحکومت کابل میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری روایتی جرگہ اس وقت انتشار اور تعطل کی نذر ہوگیا جب تقریبا دو سو اراکین نے رائے شماری میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کے اس احتجاج کی وجہ تاجک، ازبک اور ہزارہ نسلوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کا یہ مطالبہ تھا کہ مجوزہ آئین میں وزراء کی جانب سے مبینہ تبدیلیوں اور اپنی زبانوں اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ کابل سے اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے افغانستان کے لئے خصوصی نمائندے لخدر براہیمی اور جرگہ کے سینئر اراکین نے کرزئی کے تجویز کردہ صدارتی نظام کے حامی اور مخالفین گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی۔ ان ملاقاتوں میں افغانستان میں امریکی سفیر زالمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔ جرگہ تعطل کے بعد سنیچر تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب بظاہر سب کی کوشش ہے کہ کوئی متفقہ معاہدہ سامنے آسکے۔ صدر حامد کرزئی آغاز سے ہی اپنے موقف پر ڈٹے ہیں اور اس سے بظاہر ایک انچ بھی ادھر ادھر ہونے کو تیار نہیں۔ صحافیوں سے کابل میں گزشتہ روز بات چیت میں انہوں نے الزام لگایا کہ جرگہ میں شامل ’چار یا پانچ لوگ اسے ناکام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔’ انہوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ صدارتی نظام کے مخالفین سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ اس تعطل سے افغانستان کے اندر نسلی اختلافات اور تفریق کو مرتبہ پھر سامنے آئے ہیں۔ توقع ہے کہ تعطل کے خاتمے کے لئے یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہیں گے اور حکومت اور اقوام متحدہ کی کوشش ہوگی کہ سنیچر کو جرگہ دوبارہ اپنے مقررہ وقت پر شروع ہو اور آئین کی منظوری دے سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||