BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2004, 03:57 GMT 08:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل پر قبضے کے امریکی منصوبے
تیل ہمیشہ امریکی پالیسی میں اہمیت کا حامل رہا ہے
تیل ہمیشہ امریکی پالیسی میں اہمیت کا حامل رہا ہے

انیس سو تہتر کے تیل کے بحران کے دوران امریکہ نے مشرق وسطی کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے سعودی عرب اور کویت پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

برطانیہ میں تیس سال بعد کچھ خفیہ دستاویزات کو عام کیا گیا ہے جن سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ برطانوی حکومت کو ان امریکی منصوبوں کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں اور برطانوی حکومت نے امریکی ارادوں کا بغور جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

برطانیہ کو انیس سو تہتر میں اپنے خفیہ ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی طرف سے امریکہ کو تیل فروخت کرنے پر پابندی کے بعد امریکہ نے فیصلہ کیا تھا کہ سعودی عرب اور کویت میں تیل کے کنووں پر امریکی چھاپہ مار دستوں کی مدد سے قبضہ کر لیا جائے۔

ان دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ کی حکمت عملی میں تیل کس قدر اہم نوعیت کا حامل رہا ہے۔

اس وقت امریکہ میں برطانوی سفیر کو امریکی وزیر دفاع نے ممکنہ قوت کے استعمال کے بارے میں خبر دار کیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اب اس بات میں کوئی ابہام نہیں کہ امریکہ مشرق وسطی میں قوت کا استعمال نہیں کر سکتا۔

اکتوبرانیس سو تہتر کی عرب اور اسرائیل کی جنگ کے بعد عربوں نے امریکہ اور مغربی ملکوں پر تیل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اس کا مقصد امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا تھا۔

برطانیہ کی جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے مطابق تیل کے کنوؤں پر قبضہ امریکی پالیسی کا اولین ہدف تھا اوراس کا اندازہ ان کے ہنگامی منصوبے سے بھی ہوتا تھا۔

خفیہ کمیٹی کے اندازوں کے مطابق چھاتہ بردار فوج کے ذریعے تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنے کا امکاناتت زیادہ تھے اور ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یونان، ترکی، قبرص ، ایران اور اسرائیل میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس کمیٹی نے دوسرے امکانات کو رد کر دیا تھا جن میں سخت گیر عرب رہنماوں کو ہٹاکر امریکی نواز رہنماو کو سامنے لانا یا پھر گن بوٹ ڈپولومیسی کی طرز پر ان پر دباؤ ڈالنا شامل تھا۔

اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کا فوجی قبضہ دس سال تک جاری رہے گا اور اس سے عرب دنیا میں شدید اشتعال پیدا ہوجائے گا۔ تاہم اس کمیٹی نے رد عمل کے طور پر سویت یونین کی طرف سے کسی فوجی کارروائی

کے امکان کو رد کر دیا تھا۔

اس منصوبے میں برطانیہ کو بھی ایک امریکہ کی معاونت کرنی تھی اور اس کو ابو دہبی کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے کہا جاتا۔ اسوقت کچھ برطانوی فوجی ابو دہبی کی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

برطانوی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کویت میں عراق روس کی مدد سے مداخلت کر سکتا ہے۔ اسوقت عراق کے نائب صدر کے عہدے پر صدام حسین فائز تھے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملہ اس صورت میں کیا جانا تھا کہ اگر لمبے عرصے تک عرب امریکہ کو تیل فروخت نہ کرتے اور اس سے ان کی اقتصادی صورت حال پر اثر پڑنے لگتا۔ اس صورت حال کو سیاہ سیناریو کہا گیا تھا۔

تاہم تیل کی فروخت پر پابندی کچھ مہینوں میں اٹھالی گئی اور مصر اور اسرائیل میں ایک معاہدہ طے پاگیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد