| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرشتوں سے بھرا جہاز
شاید ستاسٹھ سالہ ڈوروتھی فلیچر کو اس سے زیادہ بہتر ہمسفروں کی خواہش نہیں ہو سکتی تھی۔ برطانیہ کے شہر لیورپول کی رہائشی مسزز فلیچر کو، جو اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر فلوریڈا جا رہی تھیں، طیارے میں ہی ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ جب فضائی میزبان نے طیارے میں یہ اعلان کیا کہ ’کیا طیارے میں کوئی دل کا ڈاکٹر سفر کر رہا ہے‘ تو پندرہ ڈاکٹر مسزز فلیچر کی مدد کو اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ سب دل کے ڈاکٹر اورلینڈو میں میں دل کے ڈاکٹروں کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنے جا رہے تھے۔ مسزز فلیچر نے کہا کہ ’وہ سب کمال کے ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے میری جان بچائی۔‘ انہوں نے کہا کہ میری حالت بہت بری تھی اور وہ سب میری مدد کو دوڑے۔ ’میری بیٹی میرے ساتھ تھی اور آپ سوچ سکتے ہیں کہ ان سب ڈاکٹروں کے اچانک میری مدد کرنے کے بعد اس کے دل کی حالت کیا ہو گی۔‘ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں ان سب کا شکریہ ادا کروں لیکن مجھے یہ نہیں معلوم وہ کون لوگ تھے۔ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ اورلینڈو میں کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ مسزز فلیچر کو جنوبی کیرولینا کے شارلیٹ میڈیکل سینٹر کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں دو دن رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں تین دن عام وارڈ میں رکھا گیا لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی بیٹی کرسچیئن کی شادی میں شرکت کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||