| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردنی وکلاء صدام کا دفاع کریں گے
اردن کے روزنامہ جارڈن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ملک کے چھ سو وکلاء نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کا دفاع کرنے کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اردن میں وکلاء کی انجمن کے صدر حسین مجالی کا کہنا ہے کہ صدام حسین کا دفاع کرنے والی ٹیم میں شامل ہونے کے لئے مقامی اور بین الاقوامی وکلاء کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ تک یہ تعداد چھ سو تک پہنچ چکی تھی۔ یہ وکلاء رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق مجالی کا کہنا تھا کہ عدالت میں صدام کا دفاع کرنے سے متعلق امور پر غور کے لئے عرب لایرز یونین کا ایک اجلاس اتوار کے روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہو رہا ہے۔ مجالی کا موقف ہے کہ صدام حسین قانونی طور پر عراق کے سربراہ ہیں اور امریکی قبضہ ناجائز ہے۔ اس لئے امریکی سالاری میں کی گئی تمام کارروائیاں بھی ناجائز اور فاسد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے سربراہ کو عراقی آئین اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی مقدمہ سے استثنٰی حاصل ہوتا ہے لہذا صدر صدام پر مقدمہ نہیں چلنا چاہئے۔ جارڈن بار ایسوسی ایشن نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمر موسی کو لکھے گئے خط میں اپیل کی ہے کہ وہ صدام حسین کو امریکی انتقام سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور انہیں کسی غیرجانبدار ملک یا ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||