BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2003, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روایتی حریفوں میں روایتی گرمجوشی

پاکستان نے یہ چیمپئن شپ جیت لی
پاکستان نے یہ چیمپئن شپ جیت لی

پاکستان اور بھارت مذاکرات کی میز پر آنے سے قبل ہی سنوکر کی ٹیبل پر سامنے آئے اور یہ کریڈٹ رنگ برنگی گیندوں کے کھیل کو جاتا ہے کہ تعلقات کے معمول پر آنے کے عمل میں اگر کسی کھیل نے پہل کی تو وہ سنوکر ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اپنی نوعیت کی اس پہلی سنوکر ٹیسٹ سیریز کے دوران سب سے قابل توجہ بات یہ تھی کہ دونوں ملکوں کے کیوسٹس کے درمیان ماحول انتہائی خوشگوار رہا اور کسی موقع پر یہ احساس نہیں ہوا کہ دو روایتی حریف ممالک مدمقابل ہیں۔ جب میچ ختم ہوتا تھا تو شکست خوردہ کیوسٹ اپنے حریف کو بڑھ کر گلے لگاکر مبارکباد دیتا تھا اور اس کے کھیل کی تعریف کرتا تھا۔

دوستانہ ماحول میں کھیلی گئی اس سیریز میں خیرسگالی کے جذبات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر علی اصغر ولیکا نے بھارتی کیوسٹس کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھیں تو بھارتی منیجر اور اپنے دور کے مشہور کیوسٹ مائیکل فریرا نے جواب میں جذباتی انداز میں کہا کہ یہاں نچھاور کی جانے والی محبت دیکھ کر انہیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے وہ اپنے گھر لوٹ آئے ہوں۔

دو بار کے ایشین چیمپئن یاسین مرچنٹ کے لئے پاکستان نیانہیں وہ یہاں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنا دوسرا ایشین ٹائٹل کراچی ہی میں دو سال قبل جیتا تھا۔ اس سیریز کے بارے میں یاسین مرچنٹ کا کہنا ہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے عمل میں سنوکر نے ابتدا کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان آئے گی اور کھیلوں کے ذریعے یہ رشتے مزید مستحکم ہونگے۔

یاسین مرچنٹ کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لئے جاتے ہیں تو وہاں پہنچ کر ان کا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ملاقات کی جائے کیونکہ ان کے ساتھ گزارے جانے والے چند دن بہت یادگار ہوتے ہیں۔

یاسین مرچنٹ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں۔ یاسین مرچنٹ کے برعکس 18 سالہ پنکج ایڈوانی پہلی بار پاکستان آئے تھے انہیں پاکستانی ذرائع ابلاغ نے غیرمعمولی کوریج دی اس کی وجہ یہ تھی حال ہی میں انہوں نے پاکستان کے صالح محمد کو شکست دے کر عالمی امیچر سنوکر چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

بنگلور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان باصلاحیت کیوسٹ نے اپنے عمدہ کھیل سے شائقین کو بے حد متاثر کیا لیکن وہ خود پاکستانیوں کی روایتی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے اور یہ کہہ کر وطن روانہ ہوئے کہ دوبارہ پاکستان آنے میں خوشی محسوس کرینگے۔

جہاں تک سیریز میں کھیلے گئے مقابلوں کا تعلق ہے تو دونوں جانب سے سنوکر کا اعلی معیار دیکھنے میں آیا۔ پاکستانی شائقین کے لئے نئے عالمی امیچر چیمپئن پنکج ایڈوانی کو ایکشن میں دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا گوکہ وہ صالح محمد اور نوین پروانی سے شکست کھاگئے لیکن ان کے کھیل میں بلا کا اعتماد نظر آیا۔ جو ان کے روشن مستقبل کو ظاہر کرتاہے۔ پنکج ایڈوانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جلد ہی پروفیشنل سرکٹ میں شمولیت اختیار کریں گے ان کی خواہش ہے کہ عالمی پروفیشنل ورلڈ چیمپئن شپ میں حصہ لیں۔

پاک بھارت سنوکر سیریز میں پاکستان کے صالح محمد نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ صالح محمد ہی تھے جنہوں نے سیریز کے فیصلہ کن فریم میں الوک کمار کو شکست دے کر سیریز پاکستان کے نام کی۔ پاکستان نے یہ سیریز 33 کے مقابلے میں 43 پوائنٹس سے جیتی۔ سیریز کے دلچسپ ہونے کی ایک وجہ اس کا فارمیٹ بھی تھا جس نے شائقین کے تجسس کوآخروقت تک برقرار رکھا۔ سیریز کے اختتام پر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی ہدایتکار مہیش بھٹ نے کیوسٹس کو انعامات دیئے۔

بھارتی منیجر مائیکل فریرا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جوابی سیریز حیدرآباد دکن یا بنگلور میں منعقد کئے جانے کا عندیہ دیا ہے -

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد