| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پیشکش کا مثبت جواب
ہندوستان نے کشمیر میں استصواب رائے کے مطالبے سے دستبرداری سے متعلق پاکستان کی پیش کش کا مثبت جواب دیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے موقف میں تبدیلی کو قبول کرنے کے لئے ہروقت تیار ہے۔ یہ جمعرات کے روز صدر مشرف کی طرف سے کی جانے والی پیش کش پر ہندوستان کا پہلا باقاعدہ ردعمل تھا۔ پاکستان گزشتہ پچاس سال سے یہ کہتا آیا ہے کہ یہ فیصلہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جانا چاہیے کہ متنازعہ علاقے پاکستان اور ہندوستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے جمعہ کے روز صدر مشرف کی پیش کش پر غور کرنے کے لئے کابینہ کا اجلاس بلایا۔ جمعہ کے روز اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک تو ہمیشہ سے لچکدار رویے کا مظاہرہ کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔ ماضی میں ہندوستان یہ کہتا رہا ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں اب غیر موثر ہو چکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||