| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ ٹریڈ سینٹر، اب ’آزادی ٹاور‘
ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ نیو یارک میں آزادی ٹاور کے نام سے تعمیر کی جانے والی نئی عمارت کا نمونہ منظور کر لیا گیا ہے۔ نیویارک کے گورنر جارج پٹاکی نے کہا ہے کہ منظور شدہ نمونے پر ’آزادی ٹاور‘ کی تعمیر ان سورماؤں کو ہمارا خراجِ تحسین ہے جنہیں ہم نے کھودیا ہے۔ عمارت کے اس نمونے کی منظوری میں نمونے تیار کرنے والے آرکیٹیکٹیوں کے درمیان ایک کڑا مقابلہ تھا کیونکہ اس نمونے کی منظوری عمارت میں لیز کے حقوق رکھنے والے لوگوں نے دینی تھی۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو دہشت گردانہ حملوں میں تباہ ہونے والی اس عمارت تین ہزار افراد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سولہ ایکڑ پر تعمیر ہونے والی اس عمارت کا نمونہ اصل نمونے کی بجائے آرکیٹیکٹ ڈینیل لیبسکینڈ اور ڈیوڈ چائلڈ کے درمیان مفاہت کا نتیجہ ہے۔ ڈیوڈ چائلڈ کو لیز ہولڈروں نے اپنا نمائدہ مقرر کیا ہے اور اس ادارے کی ذمہ داری نمونے کے مطابق عمارت کی تعمیر ہے۔ نمونے کے مطابق کئی عمارتوں پر مشتمل اس عمارت کے وسط میں ایک مینار نما عمارت تعمیر کی جائے گی جو آرکیٹیکٹ کے مطابق دنیا کی بلند ترین عمارت ہو گی۔ نمونے تیار کرنے والے ماہرِ فن تعمیر نے اس کی بلندی سترہ سو چھہتر فٹ تجویز کی تھی جو برطانیہ سے آزادی کے اعلان کا سن ہے۔ تام مسٹر چائلڈ نے اس نمونے میں تبدیلی کرانے کے بعد اس ٹاور کی آخری منزل سے اوپر ایک ایسے حصے کی تعمیر منظور کی گئی ہے جو بظاہر خالی ہو گا تاہم اسے نشریاتی اینٹیناؤں اور ایسی ہوائی چکیوں کے لیے مختص کیا جائے گا جو عمارت میں استعمال ہونے والی بجلی کا بیس فیصد پیدا کریں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||