BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زائد لیے گئے پیسے واپس کریں: بش
ڈِک چینی
بش انتظامیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹھیکے منظورِ نظر کمپنیوں کو دیے

امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ تیل کی وہ کمپنی جس کے ماضی میں نائب صدر ڈِک چینی سربراہ تھے، وہ پیسے واپس کر دے گی جو اس نے زیادہ وصول کیے ہیں۔

پینٹاگون نے کل کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ تیل کی کمپنی ہیلی برٹن کی ذیلی فرم نے تیل کے ایک ٹھیکے میں زیادہ دام وصول کیے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے کچھ نہیں غلط نہیں کیا۔

پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک چائلڈز کا کہنا ہے کہ عراق میں تیل کے ٹھیکے میں تو رقم کا سوال اکسٹھ ملین ڈالر کا ہی ہے لیکن صدر بش کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ بیان اس تنازعہ کے سیاسی اثرات کی وجہ سے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پینٹاگون ٹیکس دینے والوں کے پیسے کے متعلق فکر مند ہے اور اس کا خیال رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کو رقم واپس کرنا چاہیئے کیونکہ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ اس نے زیادہ پیسے وصول کیے ہیں۔

ہیلی برٹن نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں جو غلط ہے۔

ادھر پینٹاگون کا بھی یہ کہنا ہے کہ کمپنی کو بھی اس مبینہ ’گھپلے‘ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پینٹاگون کے آڈیٹروں نے کہا کہ کمپنی نے جس کویتی کمپنی کو آگے ٹھیکہ دیا تھا اس کے ساتھ پیسے کے متعلق معاہدہ سوچ سمجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔

لیکن سرکردہ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے، جن میں صدارت کے امیدوار ہاورڈ ڈین بھی شامل ہیں، کہا ہے کہ انتظامیہ قصور وار ہے کیونکہ اس نے ان کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جو ریپبلکن پارٹی کے قریب ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد