| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تیل کے ٹھیکے پر تنازعہ
امریکی آڈیٹروں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ تیل کی ایک کمپنی نے، جس کے ماضی میں سربراہ امریکہ کی نائب صدر ڈِک چینی تھے، عراق میں فوجیوں کو مہیا کی جانے والی ضروریات کے دام زیادہ وصول کیے ہیں۔ امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کی ایک آڈٹ رپورٹ امریکی نائب صدر کی پہلی کمپنی ہیلی برٹن کو اس سال امریکی فوج کو تیل کی سپلائی کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ ہیلی برٹن کی ایک ذیلی کمپنی کیلوگ، براؤن اینڈ رووٹ (کے بی آر) نے تیل کویت سے عراق سپلائی کرنا تھا۔ پینٹاگون کے حکام کے مطابق کمپنی نے تیل اور کچھ دوسری اشیاء پر زیادہ دام وصول کیے اور کچھ ٹھیکوں کو مکمل کرنے میں تاخیر بھی کی۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس سارے ’گھپلے‘ میں کل کتنا پیسہ خرچ ہوا لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ کے بی آر کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ کس طرح پیسہ واپس وصول کیا جائے۔ تاہم پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک چائلڈز کا کہنا ہے ٹھیکے پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ جارج بش کے لیئے بری خبر ہے کیونکہ ان کی انتظامیہ پر پہلے ہی اس بات پر زبردست تنقید ہو رہی ہے کہ اس نے عراق میں نئے ٹھیکے صرف ان ممالک کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ ہیلی برٹن کی ایک ترجمان وینڈی ہال نے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کمپنی نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اس سے قبل اکتوبر میں کانگریس کے دو ڈیموکریٹ اراکین نے ہیلی برٹن کے دام پر اعتراض کیا تھا۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ ہینری ویکسمین نے بار بار دستاویز دکھائی تھیں کہ ہیلی برٹن کویت سے تیل کی ترسیل کے دوسری کمپنیوں سے دوگنے دام وصول کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||