| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مُلا تھے یا نہیں، ٹیسٹ بتائے گا
افغانستان میں موجود امریکی فوج ابھی تک یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا انہوں نے سنیچر کے حملے میں ملا وزیر کو ہلاک کیا ہے یا نہیں۔ اس حملے میں نو بچے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ حملہ جنوبی صوبے غزنی کے ایک دور دراز علاقے میں کیا گیا تھا۔ شروع میں امریکہ نے کہا تھا کہ ملا وزیر ہلاک کر دیئے گئے ہیں لیکن اب یہ حتمی طور پر معلوم کرنے کے لیئے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ اتحادی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل برائن ہلفرٹی نے تسلیم کیا ہے کہ اس طرح غلطی سے بمباری کرنے کی وجہ سے مقامی لوگ متنفر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے افغانستان میں سب سے بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی کو’ آپریشن ایولانشے‘ کہا جا رہا ہے۔
اس کارروائی میں افغان نیشنل آرمی کے ساتھ ساتھ دوہزار سے زائد امریکی فوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی مشرقی اور جنوبی افغانستان میں کی جا رہی ہے اور اس کا بنیادی مقصد ان علاقوں میں چھپے ہوئے طالبان اور القاعدہ جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا اور ان کی مسلح کارروائیوں کو روکنا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں دوبارہ قوت پکڑ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں امریکی اور افغان فوجیوں، سرکاری اہلکاروں اور امدادی کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||