BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2003, 02:07 GMT 07:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز یافتہ کتا
برطانوی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز یافتہ کتا
برطانوی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز یافتہ کتا

’وکٹوریہ کراس‘ برطانیہ کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ہے جو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ سے منسوب ہے۔

برطانیہ میں جانوروں کو جو اعزازات عطا کیے جاتے ہیں ’پیپلز ڈسپنسری فار سک اینیملز‘ ڈکن میڈل اعزاز کو وہی اہمیت و حیثیت حاصل ہے جو فوج میں ’وکٹوریہ کراس‘ کی ہے یعنی ’پیپلز ڈسپنسری فار سک اینیملز‘ ڈکن میڈل اعزاز جانوروں کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔

یہ اعزاز اس بار ایک ایسے کتے کو دیا جارہا ہے جس نے عراق کے قصبے صفوان میں بم بنانے والے پوشیدہ آلات کو سونگھا تھا اور انہیں ناکارہ بنانے میں مدد دی تھی۔

فوج کے اس اس پانچ سالہ کھوجی کتے کا نام ’بسٹر‘ ہے اور اس نے گزشتہ مارچ میں جنوبی عراقی قصبے صفوان میں اس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جس پر اسے برطانیہ میں جانوروں کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز دیا گیا ہے۔

فوج کے اس کھوجی کتے کو منگل کو شہزادی ایلیگزینڈرا امپریل وار میوزیم (فوجی عجائب گھر) میں ’پیپلز ڈسپنسری فار سک اینیملز‘ ڈکن میڈل اعزاز عطا کریں گی۔

اس کتے کے ساتھ اس کی نگہداشت پر مامور، برطانوی فوج کے جانوروں سے متعلق شعبے ’رائل آرمی ویٹرینری کور‘ کے سارجنٹ ڈینی مورگن بھی ہوں گے۔

سارجنٹ ڈینی اور یہ کتا، بسٹر دونوں ہیمپشائر میں تعینات ہیں۔ سینتیس سالہ سارجنٹ ڈینی مورگن، بسٹر کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہیں۔

سارجنٹ مورگن، بسٹر کی نگہداشت اپنے گھر پر کرتے ہیں جہاں فوج کا یہ کھوجی کتا ایک پالتو جانور کی زندگی گزارتا ہے اور سارجنٹ مورگن کی پانچ سالہ بیٹی ایما اور بتیس برس کی اہلیہ نکی بھی اس کتے کی نگہداشت میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ سارجنٹ مورگن کی اہلیہ نکی، پیشے کے اعتبار سے نرس ہیں۔

کتے کی اس شاندار کارکردگی کے بارے میں جس کی بنا پر بسٹر کو یہ فوجی اعزاز عطا کیا جارہا ہے، سارجنٹ مورگن کا کہنا ہے کہ ’سپاہیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا۔۔۔ان کو کچھ نہیں مل سکا تھا۔۔۔تب میں نے بسٹر کو کھول دیا اور اسے اندر بھیجا۔۔۔‘

’چند لمحوں کے بعد ہی بسٹر بلبلانے لگا۔۔۔میں سمجھ گیا کہ اس نے آخر کار کچھ ڈھونڈ ہی لیا ہے۔۔۔‘

’آپ کو پتہ ہے کہ بسٹر نے کیا ڈھونڈا تھا۔ اس نے ایک الماری کے پیچھے ایک دیوار کے خفیہ خانے میں چھپے ہتھیار و آلات تلاش کرلیے تھے جنہیں ایک ٹین کا چادر کے ذریعے ڈھانپنے کی کوشش کی گئی تھی۔‘

’ہم بسٹر کے بغیر یہ ہتھیار و آلات کبھی تلاش نہیں کرسکتے تھے۔۔۔اس خزانے میں ایک اے کے سینتالیس ساختہ بندوق، ایک پستول، چھ دستی بم، بارود و آلات بھاری مقدار میں نقدی، منشیات اور صدام حسین کی حمایت میں تحریری مواد شامل تھا۔‘

بسٹر کے ذریعے اس سب کچھ کے برآمد ہونے کے بعد اس علاقے میں کوئی حملہ نہیں ہوا۔

بسٹر چوبیسواں کتا ہے جو ’پیپلز ڈسپنسری فار سک اینیملز‘ ڈکن میڈل حاصل کرے گا۔ بسٹر کو یہ اعزاز اس اعزاز کے جاری کیے جانے کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر دیا جارہا ہے جو دسمبر انیس سو تینتالیس میں ’پیپلز ڈسپنسری فار سک اینیملز‘ اعزاز کی خالق ماریا ڈکن نے جنگ عظیم دوئم میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے جانوروں کے لیے جاری کیا تھا۔

یہ برطانوی اور دولت مشترکہ کی افواج میں شامل جانوروں کو بہادری اور شجاعت پر دیا جانے والا سب سے بڑا اور اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ہے۔

اب تک یہ اعزاز ساٹھ جانوروں کو دیا جاچکا ہے جن میں بتیس کبوتر، تین گھوڑے، ایک بلی اور تیئس کتے شامل ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد