| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کی ہلاکت کی مذمت
اقوام متحدہ نے امریکی بمباری سے نو بچوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور جلد انکوائری کا مطالبہ کیاہے۔ افغانستان کے لئے اقوم متحدہ کے خصوصی نمائندے لخدر براہیمی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے عدم تحفظ اور خوف کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے امریکی فوجی حکام نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے ’غلطی‘ سے غزنی کے قریب ایک مکان پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت دس افغان ہلاک ہوگئے ہیں۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کو مخبری ہوئی تھی کہ طالبان جنگجو اس مکان میں کسی حملے کی منصوبے بندی کررہے ہیں۔ لیکن جب اس مخبری پر مکان پر بمباری کی گئی تو اس مکان میں آباد افغان خاندان اس کا نشانہ بن گیا۔ کابل میں امریکی سفارتخانے کے حکام نے اس بمباری کے واقعے کی تصدیق تو کردی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے یہ کارروائی کسی غلطی کا نتیجہ تھی اور سلسلے میں ایک بیان بھی متوقع ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار لز ڈوسیٹ کا کہنا ہے کہ معصوم افغان عوام پر ہونے والے ایسے حملے مقامی آبادی میں اشتعال کا باعث بنتے ہیں۔ تین ہفتے قبل غزنی کے ایک بازار میں دن دہاڑے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری بعد میں طالبان نے قبول کرلی تھی جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ نامہ نگار کے مطابق اگرچہ بعض علاقوں میں امریکی فوج یا غیر ملکیوں کی موجودگی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے مگر بعض جنوبی اور مشرقی علاقوں میں ایسا نہیں ہے۔ سن دو ہزار دو میں وسطی افغانستان میں ایک بارات پر امریکی بمباری کے نتیجے میں درجنوں افغان ہلاک ہوئے تھے اور اس واقعے کے بعد افغانوں میں زبردست اشتعال پھیل گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||