| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیلانی کوجلسے کی اجازت نہیں
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت نے علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کو عوامی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ سید علی شاہ گیلانی آئندہ ہفتے کے روز یہ جلسہ سری نگر میں منعقد کرنا چاہتے تھے۔ گیلانی نے اب اس فیصلے کے خلاف وادیء کشمیر میں ہڑتال طلب کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلسے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی کیونکہ اس کی مجوزہ تاریخ بابری مسجد کے انہدام کی برسی بھی ہے۔ تاہم گیلانی نے، جو حریت کانفرنس کے ایک باغی گروہ کے سربراہ ہیں، کہا کہ حکام نے یہ اقدام خفیہ اداروں کی ان اطلاعات کے بعد کیا کہ اس جلسے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے دفتر میں اجازت کے لئے باضابطہ درخواست نومبر کی سات تاریخ کو دی تھی۔ لیکن میجسٹریٹ کے فیصلے کے بارے میں انہیں تین دسمبر کو بتایا گیا، جب تک جلسے کی تاریخ کو تبدیل کے لئے دیر ہو چکی تھی۔ دوسری طرف مولوی عباس انصاری کی قیادت والے حریت کانفرنس کے دھڑے نے کہا ہے کہ گیلانی نے جلسہ لوگوں کی عدم دلچسپی کے پیش نظر ملتوی کر دیا ہے۔ مولوی عباس کا کہنا ہے کہ اب سید علی گیلانی نے تنگ آکر ہڑتال کی کال دی ہے لیکن اس کا بھی زیادہ اثر نہیں ہوگا۔ سید علی گیلانی نے مولوی عباس کی قیادت والی حریت کانفرنس پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی پیشکش کے لئے تنقید کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||