BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2003, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: انتخابی مہم کے نئے رنگ
کرن چودھری کی اپنی ویب سائٹ ہے

بھارت میں ریاستی انتخابات میں ووٹروں کے دل جیتنے کےلئے کچھ امیدوار اپنی مہم میں نئے طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

بھارت میں الیکشن یوں بھی بڑے رنگین ہوتے ہیں، اُن کے دوران پوسٹر، بینر اور موسیقی کا دل کھول کر استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی امیدوار تو خاص طور پر بنائی گئی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، جنہیں پرانے زمانے کی گھوڑا گاڑیوں کی طرز پر بنایا جاتا ہے۔

تاہم موجودہ ریاستی الیکشن میں سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنی آواز لوگوں تک پہنچانے کے لئے نئی ٹیکنالوجی اور میڈیا کا بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافے سے امیدواروں کو اپنی مہم چلانے کے لئے ایک نیا پلیٹ فارم ملا ہے۔

جہاں کچھ سیاسی جماعتیں لوگوں کو موبائل فون کے ذریعے ’ٹیکسٹ میسیج‘ بھیجنے میں مصروف ہو گئی ہیں، وہیں کچھ امیدوار ایسے بھی ہیں جنہوں نے شہری علاقوں کے ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے اپنی ویب سائٹس قائم کی ہیں۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تو ایک ٹیم تشکیل دی ہے جسکا کام انتخابی مہم کے ایسے نعرے لکھنا ہے جو موبائل فون اور ای میل کے ذریعے بھیجے جا سکیں۔

دہلی میں بی جے پی کے ایک امیدوار وجے جولی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ووٹرو ں کو دیوالی کے تہوار پر بھی مبارکباد کے پیغامات بھیجے، اس سے ہمیں ان کا دل جیتنے میں مدد ملے گی۔‘

حریف جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ ای میل اور ایس ایم ایس (موبائل فون پر بھیجے جانے والے مختصر پیغامات) سے ہم بڑے شہروں میں رہنے والے ووٹروں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرا سکتے ہیں۔

روایتی طریقے مہنگے ثابت ہو رہے ہیں

سیاسی جماعتیں لوگوں کے موبائل فون نمبر اور ای میل پتے مقامی رہائیشی تنظیموں کی مدد سے جمع کر رہی ہیں۔ کانگریس نے آٹھ لاکھ ای میل پتے جمع کرانے کے لئے ایک کمپنی کی خدمات بھی حاصل کی ہیں، تاکہ ان پر پیغامات، خطوط اور امیدواروں کی تصاویر بھی بھیجی جا سکیں۔

ووٹروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لئے کچھ امیدواروں نے اپنی ویب سائٹس بھی بنائی ہیں۔ دہلی کنٹونمنٹ سے کانگریس کی امیدوار کِرن چودھری ان میں سے ایک ہے۔ ان کی ویب سائٹ گزشتہ ہفتے لانچ کی گئی ۔

ان کی سائٹ پر ان کے بارے میں تعلیمی اور خاندانی معلومات کے ساتھ ساتھ ان کی اور انکی جماعت کی کارکردگی کا ذکر بھی ہے۔ ویب سائٹ پر آنے والے انہیں اپنی آراء اور سوالات بھی بھیج سکتے ہیں۔

مختلف جماعتوں کے حمایتوں میں ٹوپیاں، سٹیکر اور بیج وغیرہ بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے انتخابی مہم کے کچھ روایتی طریقوں پر بھارت کے الیکشن کمیشن کی طرف سے عائد پابندی کے بعد امیدوار اور جماعتیں نئے انداز میں اپنی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم نئے انداز کے نئے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ حال میں جب کانگریس نے کچھ ووٹروں کو ای میل کے ذریعے سینیئر رہنماؤں کی تصاویر بھیجی تو ان کے ساتھ کچھ فحش ’پاپ۔اپ‘ تصاویر بھی موصول ہوئیں۔ پارٹی کے اہلکار ہل سے گئے۔ انٹرنیٹ پر ایسا ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد