| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بموں کے بعد امن مظاہرہ
ترکی میں برطانوی قونصل خانے کے سامنے گزشتہ ہفتے ترکی میں بم دھماکوں کی مذمت کے لئے ہزاروں افراد جمع ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے ان چار بم دھماکوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ احتجاجی مظاہرے مزدور یونینوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی اپیل پر استنبول اور ترکی کے کئی دوسرے شہروں میں کئے گئے۔ استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے حصہ لیا جن میں مزدور یونینوں کے اراکین، کرد، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور عام شہری شامل تھے۔ ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردوگان نے کہا ہے کہ ان کا ملک شرمندہ ہے کہ حملہ آور ترک تھے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ حملوں کے منصوبے بنانے والے دونوں جہانوں میں مطعون قرار دیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے کے وقفے سے استنبول میں برطانوی قونصل خانے، ایک برطانوی بینک اور یہودیوں کی دو عبادت گاہوں پر خودکش بم حملے ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||