| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں سیکیورٹی چوکس
انٹیلیجنس کی رپورٹوں کے بعد کے القاعدہ کے دہشت گرد برطانیہ میں حملہ کر سکتے ہیں برطانوی سیکیورٹی سروسز کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کے چوکنا رہنے کو دوسرے درجے کا انتہائی الرٹ کہا جاتا ہے۔ بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس الرٹ کا تعلق امریکی صدر بش کے اگلے ہفتے کے دورے سے نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے حامی برطانیہ میں حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ الرٹ کا مطلب ہے کہ متوقع اہداف پر سیکیورٹی سخت کر دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک انٹیلیجنس کی طرف سے ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی کہ حملہ ہو رہا ہے یا حملہ کسی خاص ٹارگٹ پر ہو گا۔ اس طرح کے الرٹ کو اندرونی الرٹ کہا جاتا ہے اور یہ صرف سیکیورٹی سروسز، فوج اور ایم آئی فائیو کے لئے ہوتا ہے۔ اسے عام بھی نہیں کیا جاتا۔ برطانیہ سرکاری طور پر انتہائی الرٹ کی حالت میں ہے لیکن اس انتہائی الرٹ کی حالت کو بھی اب بڑھا دیا گیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار مارگریٹ گِلمور کہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ان لوگوں کے متعلق کوئی اطلاع ہو جن پر انہیں پہلے ہی شک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت کم ہی ہوتا ہے کہ انتہائی چوکنا رہنے کی حالت کا اعلان کیا جائے۔ ’لیکن یہ وارننگ سیکیورٹی سروسز کے لئے ہے اور عوام کے لئے نہیں۔ کیونکہ عوام اس کے متعلق زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ہوم آفس نے اس کے متعلق کچھ بھی کہنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا ہے کہ وہ خطرے کے درجوں کے متعلق اس وقت تک بات نہیں کرتے جب تک ان کے پاس کسی خاص خطرے کی اطلاع نہیں ہوتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||