| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وضاحت کریں بااختیار کون ہے؟‘
سری لنکا میں تامل باغیوں کا کہنا ہے کہ صدر چندریکا کمارا تنگا اور وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے کے درمیان اقتدار کی رسّہ کشی کے باوجود تامل باغی اب تک بیس ماہ پرانے جنگ بندی کے معاہدے پر قائم اور قیام امن کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ہونا اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ دارالحکومت کولمبو میں ان تمام امور سے نمٹنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ تامل باغیوں کی جانب سے قیام امن کے لیے ان کوششوں کی یقین دہانی باغیوں کے رہنما ویلو پلائی پربھاکرن نے ناروے کے ایلچی کو کرائی ہے۔ ناروے سری لنکا کی حکومت اور باغیوں کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کررہا ہے۔ یہ یقین دہانی ویلو پلائی پربھاکرن نے ناروے کے ایلچی کو کسی نامعلوم خفیہ مقام پر کرائی ہے۔ تامل باغی رہنما سے ناروے کے ایلچی کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں صدر چندریکا کمارا تنگا اور وزیراعظم وکرما سنگھے کے درمیان اقتدار کی رسّہ کشی کی وجہ سے بدترین سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ناروے کے ایلچی کا یہ خصوصی دورہ دراصل حکومت اور باغیوں کے درمیان امن مذاکرات کے تازہ دور کے لیے تھا تاہم اب یہ بحران سے نمٹنے کی ایک کوشش کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ ناروے کے نائب وزیر خارجہ ویدار ہیلگیسن نے خفیہ مقام پر ہونے والی اس ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تامل ٹائیگرز دراصل اس بات کی وضاحت چاہتے ہیں کہ اصل میں اب امن کی کوششوں کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اطلاعات کے مطابق تامل ٹائیگرز کے سیاسی شعبے کے رہنما ایس تھمل سلون کا کہنا ہے ’تامل رہنما ناروے سے اس امر کی ضمانت چاہتے ہیں کہ سری لنکا کی حکومت جنگ بندی کے معاہدے پر عمل پیرا رہے گی۔ اور انہوں نے ناروے کے ایلچی کو قیام امن کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ہونا چاہیے۔‘ صدر چندریکا کمارا تنگا اور وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے کے درمیان اقتدار کی رسّہ کشی میں اس امر پر اختلاف ہے کہ تامل باغیوں سے مذاکرات کس انداز سے کیے جائیں۔ گزشتہ ہفتے یہی اختلافات ایک زبردست سیاسی بحران کا باعث بنے تھے جب صدر چندریکا کمارا تنگا نے اس الزام کے تحت کہ وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے نے باغیوں کو زیادہ رعایات دے دیں ہیں، ان کے تین وزراء کو برطرف کرتے ہوئے پارلیمان کو معطل کردیا تھا۔ ناروے کے ایلچی نے حکومت کی جانب سے ضمانت کے بارے میں تامل باغیوں کا یہ پیغام صدر چندریکا کمارا تنگا اور وزیراعظم وکرما سنگھے تک پہنچا دیا ہے کہ انہیں فروری سن دو ہزار دو میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||