| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاض دھماکے، شاہدین نے کیا دیکھا؟
سنیچر کی شب سعودی دارالحکومت ریاض کے اس رہائشی احاطے میں، جو خودکش حملے کے دھماکوں سے گونج اٹھا تھا، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہر طرف خون تھا یا چیخ و پکار و آہ و بکا، زخمی، لاشیں تھیں۔ عینی شاہدین نے انکشاف کیا کہ آوازوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکن ہے ان دھماکوں سے قبل بندوق برداروں کی کوئی جھڑپ بھی ہوئی تھی۔ اس رہائشی احاطے محیہ کپماؤنڈ میں رہائش پذیر ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ’ہر طرف ٹوٹے ہوئے مکانات ہیں، حملے میں تباہ ہونے والی کھڑکھیوں کے شیشوں کی بکھری کرچیاں یا پھر چلاتی چنگھاڑتی سائرن بجاتی پولیس کی گاڑیاں۔۔۔‘ ’میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوں۔ واقعی میں جسے آپ پریشان کہہ سکتے ہیں۔ وہاں تو ہر سمت خون ہی خون ہے۔۔۔‘ اسی احاطے میں رہائش پذیر ایک شخص باسم الحورانی نے العربیہ ٹیلی ویژن کوبتایا ’میں نے بچوں اور پھر عورتوں کی چیخ و پکار سنی۔۔۔میرے اپنے گھر کا ہر ہر شیشہ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔‘ باسم نے بتایا کہ اس احاطے کے محض تین ہی مکانات میں غیر ملکی رہائش پذیر ہیں ورنہ باقی تمام گھروں میں عربی ہی رہتے ہیں۔ عین حملے کے وقت وہاں موجود اس رہائشی احاطے کی مینیجر ہنادی الغندکی نے العربیہ ٹیلی ویژن کو بتایا کے دھماکے سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے۔ ’زیادہ تر بڑے تو اس وقت کمپاؤنڈ میں تھے ہی نہیں۔‘ ایک سعودی افسر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر والدین اس وجہ سے اس رہائشی احاطے سے باہر ہوں گے تاکہ وہ خریداری کرسکیں کیونکہ رمضان میں دن کے وقت تو دکانیں بند ہوتی ہیں۔ الغندکی نے بتایا کہ انہوں دوسرے دھماکے سے چند لمحوں قبل ’بندوق چلنے کی آواز سنی تھی۔‘ احاطے میں رہنے والے اردن کے ایک باشندے نے، جس نے اپنا نام خبر رساں ادارے رائیٹرز کو صرف اعلیٰ ہی بتایا کہا ’میں نے بندوق کی آواز سنی۔ کئی گولیاں چلنے کی آواز۔۔۔اور پھر ایک زوردار دھماکہ۔ کئی گھر متاثر ہوئے۔ چار یا پانچ تو سمجھیں کہ تباہ ہی ہوگئے بالکل مخدوش۔۔۔میرا گھر دور تھا مگر کھڑکیاں تو میری مکان کی بھی ٹوٹ گئیں۔‘ اطلاعات کے مطابق حفاظتی اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے احاطے میں ’اجنبی گاڑیاں‘ دیکھیں تھیں۔ تاہم ان افسران نے اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کی۔ اگرچہ اب تک سرکاری طور پر محض گیارہ ہی اموات کی تصدیق کی جاسکی ہے تاہم احاطے کی ایک مکین رابی حدیقہ کا کہنا ہے ’کم از کم بیس سے تیس لوگ ضرور ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً پچاس سے ساٹھ زخمی بھی۔۔۔‘ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاقے سے اب تک دھواں اٹھ رہا ہے۔ بی بی سی کے ایک صحافی نے جب اس احاطے میں گھسنے کی کوشش کی تو پولیس نے انتہائی درشتی اور سختی سے صحافیوں کو احاطے میں داخلے سے روک دیا۔ بی بی سی کے اس پروڈیوسر کا کہنا ہے ’فضاء میں پولیس کا ایک ہیلی کاپٹر موجود ہے۔ اور ایک عجیب سی بو بھی۔۔۔واقعی یہاں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ریاض میں۔۔۔(کیونکہ) یہ سب رمضان میں ہوا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||