| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود کش حملوں سے باز رہنے کا معاوضہ
بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق فلسطینی انتظامیہ ایک شدت پسند تنظیم کو خود کش حملوں سے باز رکھنے کی غرض سے رقومات دیتی رہی ہے۔ بی بی سی پروگرام ’کارسپانڈنٹ‘ کی تحقیقات کے مطابق الاقصیٰ بریگیڈ کو ماہانہ کل پچاس ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ابو مازن کی حکومت کے ایک سابق وزیر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو رقم اس لئے دی جاتی ہے تاکہ وہ خود کش حملوں سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ رقومات دینے کی پالیسی یاسر عرفات نے شروع نہیں کی تاہم انہیں اس کا علم ہے۔ پروگرم میں انٹرویو کئے گئے الاقصیٰ کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ان ادائیگیوں کے باوجود الاقصیٰ نے جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی یاسر عرفات نے ان کی تنظیم سے خود کش حملے روکنے کے لئے کہا ہے۔ تاہم یاسر عرفات نے حالیہ خود کش حملوں کی مذمت کی ہے۔
ابو مازن کی حکومت میں کھیل اور نوجوانوں کے امور کے وزیر عبدل فتح حمایل ستمبر میں ابو مازن کی حکومت کے خاتمے تک شدت پسندوں کے اخراجات برداشت کرنے کی پالیسی کے انچارج تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے ان میں سے کچھ افراد کو حفاظتی دستوں میں کام کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا، اس لئے انہیں تنخواہیں دی جاتی تھیں، اور اب بھی دی جاتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ فلسطینی کابینہ نے اس سال فیصلہ کیا کہ الاقصیٰ کے ان اراکین کو روز مرہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے پیسے دیئے جائیں گے جنہیں تنخواہیں نہیں ملتیں۔ انکا کہنا ہے کہ رقومات دینے کا مقصد یہ ہے کہ خود کش حملے کرنے کے لئے الاقصیٰ کے اراکین کسی بیرونی ایجنسی سے اثر انداز نہ ہوں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ فلسطینی انتظامیہ اس بات کو کس طرح یقینی بنا سکتی ہے کہ یہ پیسا ہتھیاروں پر خرچ نہیں کیا جاتا تو انہو ں نے کہا کہ ’یہ رقومات بہت چھوٹی ہیں، ایک شخص کو صرف دو سو پچاس ڈالر دیئے جاتے ہیں۔ اتنے تھوڑے پیسے سے کوئی ہتھیار کیسے خرید سکتا ہے؟‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||