| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحرا سے ریت لیجانا منع ہے
سعودی عرب میں ہوائی یا زمینی سفر کے دوران جدہر نظر جاتی ہے دور دور تک ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے اور اس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ گرمیوں میں جب لو چلتی ہے تو فضا میں اس قدر ریت بکھر جاتی ہے کہ مقامی بدو ریت کے ذرات سے بچانے کے لیے چہروں کوایک بڑے رومال سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے پڑوسی ممالک کے تعمیری منصوبوں میں ریت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ملک سے ریت کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ملکی سرحدوں پر واقعہ چوکیوں کو چوکنا کر دیا گیا ہے کہ ریت سے بھرے ٹرک سرحد پار کر کے دوسرے ممالک نہ جا سکیں۔ اگرچہ اس خبر میں اس نئے حکم امتناعی کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی ہے لیکن عام خیال یہی ہے کہ ملک میں ریت کی ممکنہ کمی کے خدشے کے پیش نظر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ موجودہ پابندی بظاہر بحرین میں تعمیری صنعت میں تیزی اور عراق میں تعمیرنو کے منصوبوں کے باعث ریت کی کھپت میں متوقع اضافے کے پیش نظر بھی کی گئی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جس کا رقبہ امریکہ کے ایک چوتھائی کے برابر ہو اور تقریباً پچانوے فیصد صحرا پر مبنی ہو اور پانی کی کمیابی کا عالم یہ ہو کہ ایک لیٹر تیل کی قیمت بازار میں دستیاب ایک لیٹر پانی کی قیمت سے کم ہو۔ اور جس کے لق و دق صحرا ربع الخالی کا شمار دنیا کے بڑے صحرائی خطوں میں ہوتا ہو، ریت کی برآمد پر پابندی لوگوں کے بقول ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||