| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
غربِ اردن: پابندیوں میں نرمی
اسرائیل غربِ اردن کے کئی علاقوں میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر نافذ پابندیوں میں نرمی کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ فلسطین میں نئی حکومت کے قیام کے بعد قیامِ امن کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کرنے کے لیے ماحول ساز گار کیا جا سکے۔ پابندیاں جنین اور نابلوس پربھی نافذ ہیں لیکن وہاں کوئی نرمی نہیں کی جا رہی کیونکہ اسرائیل ان دونوں علاقوں کو شدت پسندوں کے گڑھ تصور کرتا ہے۔ فلسطینی حکام نے جنین اور نابلوس کے ساتھ امتیازی سلوک کی مذمت کی ہے اور اسرائیلی موقف کو محض پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ فلسطین کے سینئر مذاکرات کار صائب اریقات نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ موقف سوائے ایک سیاسی شعبدہ گری کے کچھ نہیں۔ اس فیصلے کے بعد اسرائیلی حکام فلسطینی حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور مزید فلسطینیوں کو روزگار کے لیے اسرائیلی علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔
فلسطینی علاقوں میں پابندیاں کو گزشتہ ماہ حیفہ میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد زیادہ کڑا کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان پابندیوں کے نفاذ سے شدت پسندوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے کیونکہ پابندیوں کے سخت ہونے سے عام فلسطینیوں کو زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||