BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2003, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکہ میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام

سعودی عرب میں جن مشتبہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا ہے وہ حکام کے مطابق مکہ میں زائرین پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ نائف نے اپنے بیان میں کہا ہے ’یہ دہشتگرد پورے ملک کو تشدد آمیز کارروائیوں کی نذر کرنا چاہتے تھے چاہے وہ اس زمین کا مقدس ترین مقام ہی کیوں نہ ہو‘۔

سعودی پولیس نے پیر کو مکہ میں دو جنگجوؤ ں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ دیگر کو چھ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس سال مئی میں دارالحکومت ریاض میں ہونے والے خود کش حملوں کے بعد سے اب تک سعودی عرب میں امریکی اور برطانوی خفیہ محکموں کے مدد سے چھ سو افراد کو شدت پسندی کے شبہ میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی صبح حفاظتی اہلکاروں پر اس وقت گولی چلائی گئی جب انہوں نے مکہ کے الشریعہ علاقے میں تلاشی کے لئے ایک گھر کو گھیرے میں لیا۔ اطلاعات کے مطابق اس گھر میں چھ مبینہ دہشتگردوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ دونوں طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں دو شدت پسند ہلاک جبکہ ایک پولیس افسر زخمی ہوگیا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق بعد میں دو مبینہ شدت پسندوں نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔

سعودی وزیر کا کہنا ہے کہ شدت پسند اہم عمارتوں، تنصیبات اور شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

سعودی ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ ملزمان کی ایک کار سے بھاری مقدار میں راکٹ سے پھینکے جانے والی گرینیڈ، خودکار ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔

ریاض میں موجود بی بی سی کے جون سمپسن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اکثر شہریوں کو اس خبر سے دھچکہ لگے گا کہ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں اس نوع کا واقعہ پیش ایا اور وہ بھی رمضان کے مقدس مہینے میں۔

سمپسن کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا دونوں گھروں کے مکین کہیں حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سعودی حکام اس امریکی تنقید سے انتہائی ناخوش ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔

کچھ ہی روز قبل امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کب تنبیہ کی تھی کہ وہ ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر سعودی عرب جانے سے گریز کریں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد