BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2003, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا میں امن کی نئی امید
تامل ٹائیگر
بیس سال سے جنگ میں مصروف تامل اب امن کی زندگی چاہتے ہیں۔

تامل مفاہمتی تجاویز پر سری لنکا کی حکومت نے محتاط ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور مفاہمت کاروں سے اس کی درخواست کے بعد اس کا امکان ہے کہ مذاکرت کا نیا دور آئندہ سال کے اوئل میں شروع ہو۔

ٹائیگرز نے امن اور جنگ بندی کے لیے جو تجاویز دی ہیں، ان کا ابھی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تاہم کہا جا رہا ہے کہ سری لنکا کی حکومت کی خواہش کے مطابق تجاویز میں ان حساس معاملات کا ذکر نہیں کیا گیا جو مذاکرات میں رکاوٹ بن سکتے ہوں۔

کولمبو سے بی بی سی کے نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی تامل علاقوں سے فوجوں کی واپسی جیسے حساس معاملات کا تجاویز میں کوئی تذکرہ کرنے کی بجائے انہیں مذاکرات کی میز کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

تاہم ان تجاویز کا ایک اہم پہلو انتظامیہ کی تبدیلی ہے اور تامل تجاویز میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی مکمل منتقلی آئندہ پانچ سال میں ہونے والے انتخابات کے ذریعے کی جائے۔

اس کے باووجود سری لنکا کا حکومتی ردِ عمل تجاویز پر محتاط ہے اور کہا گیا ہے کہ ابھی بنیادی نوع کے اختلافات ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی دوطرفہ مذاکرات کرانے والے ناروے کے مفاہمت کاروں سے درخواست کی گئی کہ وہ آئندہ سال کے اوائل میں مذاکرات کے نئے دور کا اہتمام کریں۔

تامل ٹائگرز مکمل مفاہمت سے قبل ہتھیار ڈالنا نہیں چاہتے اور یہ مرحلہ اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب شمال مشرقی علاقوں میں امن وامان کا انتظام تاملوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔

تامل اس کے علاوہ عدلیہ کا انتظام، براہِ راست عالمی امداد، بیرونی قرضے اور اندرونی ٹیکسوں کی آزادی بھی چاہتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد