| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سی آئی اے کو دو دن کی مہلت
امریکہ میں سینٹ کی ایک بااثر کمیٹی نے خفیہ ادارے سی آئی اے کو کہا کہ وہ دو دن کے اندر اندر ان تمام دستاویزات کو کمیٹی کے حوالے کر دے جن کی بنیاد پر عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔ سی آئی اے کے نام ایک خط میں سینٹ کی خفیہ اداروں کے بارے میں کمیٹی کے کچھ سینئر ارکان نے عراق کے نائجر سے یورینیم حاصل کرنے والے معاملہ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا خیال ہے کہ کمیٹی سی آئی ائے کو اپنی آئندہ رپورٹ میں اس بنا پر تنقید کا نشانہ بنائے گی کہ اس نے عراق سے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ ارکان کا خیال ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینٹ کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے تاکہ رپبلکن پارٹی کے حکام کو تنقید سے بچایا جا سکے۔ دریں اثناء صدر بش کی طرف سے پانچ مہینے پہلے عراق میں جنگ ختم ہونے کے بارے میں کیا جانے والا اعلان متنازعہ بنتا جا رہا ہے۔ صدر بش نےمئی کےمہینے میں ایک امریکی بحری جہاز پر یہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے عراق میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور اب جنگ ختم ہو گئی ہے۔ صدر بش نے جس اسٹیج سے تقریر کی تھی اس پر ایک بینر پر ’ مشن آکمپلشڈ ‘ یا مہم مکمل کے الفاظ درج تھے۔ واہٹ ہاوس کے حکام نے شروع میں کہا تھا کہ یہ بینر جہاز کے عملے نے آویزاں کیا تھا بعد میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس بینر کے لگائے جانے میں ان کی تائید شامل تھی۔ اس اعتراف نےصدر بش کے مخالفین کو تنقید کرنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے امریکی عوام جنگ کے بعد کے مشکل دور کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوئے۔ عراق میں جنگ کے خاتمے کے بعد مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد سے تجاوز کر گئی ہے۔ بدھ کے روز عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ایک سو سولہ پر پہنچ گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||