| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وسیع ناگا ریاست کا قیام ممکن نہیں‘
ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ شمال مشرقی خطے میں ناگا قبیلے کے لئے خصوصی ریاست کے قیام کے موضوع پر اس وقت ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہے۔ اٹل بہاری واجپئی نے یہ بات شمال مشرقی ریاست ناگا لینڈ کے اپنے تین روزہ دورے کے اختتام پر دہلی لوٹنے سے قبل کہی۔ ہندوستانی وزیر اعظم کے اس بیان سے آسام، منی پور اور اروناچل پردیش کے ان لوگوں کو بے حد اطمینان ہو گا جنہیں خدشہ تھا کہ ان ریاستوں کے ناگا اکثریت علاقوں کو ناگا لینڈ میں ضم کر دیا جائے گا۔ تاہم اٹل بہاری کا یہ بیان خود ناگا علیحدگی پسند باغیوں کے لئے خفگی کا باعث ہو گا جو اس وقت ہندوستانی حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اٹل بہاری واجپئی اپنے اس بیان کے ذریعہ بظاہر یہ عندیہ دینا چاہتے ہیں کہ وسیع تر ناگا ریاست کے موضوع پر دارالحکومت دہلی میں سیاسی جماعتوں کے مابین میں زیادہ دلچسپی نہیں پائی جاتی ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت اور نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ(موئیوا گروہ) کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں تاہم اس بارے میں انہوں نے مزید کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔ واضح رہے کہ ایک عرصے سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے ناگا باغیوں کا اب یہ کہنا ہے کہ اگر ہندوستانی حکومت وسیع تر ناگا ریاست کے قیام پر رضامند ہو جاتی ہے تو وہ بھی آزادی کے اپنے مطالبے سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔ این ایس سی این (موئیوا گروہ) کے رہنما گزشتہ چھ برسوں سے ہندوستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ ناگا باغیوں کی دوسری تنظیم کے سربراہ برما کے ناگا رہنما ایس ایس کھپلانگ ہیں۔ ہندوستانی سیکیوریٹی دستوں اور ناگا باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں گزشتہ پچاس برسوں میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||