| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین کی طاقت
ایک سڈی کے مطابق اس وقت دنیا میں روانڈا واحد ملک ہے جس کی پارلیمان میں خواتین اراکین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے انتخابات کے بعد روانڈا کی پارلیمان میں اڑتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد اراکین خواتین ہیں۔ سویڈن میں خواتین اراکینِ پارلیمان کی شرح پینتالیس فیصد ہے اور اب تک خواتین کی پارلیمان میں نمائندگی کے حوالے سے سویڈن سرِ فہرست رہا ہے۔ انیس سو چورانوے کے قتلِ عام کے بعد روانڈا میں ہونے والے پہلے انتخابات میں ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کی اطلاعات تھیں جنہوں نے ان انتخابات پر برا اثر ڈالا ہے۔ تاہم بین الپارلیمانی یونین کا خیال ہے کہ پارلیمان میں عورتوں کے آنے سے معاشرے پر خوشگوار اثر مرتب ہوگا۔ روانڈا کی پارلیمان میں کل اسی نشستیں ہیں جن میں سے چوبیس نشستیں خواتین کے لئے مخصوص ہیں۔ تاہم الیکشن میں پندرہ مزید خواتین منتخب ہوئی ہیں۔ جب کہ سینٹ کے لئے چھ خواتین کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ بین الپارلیمانی یونین کے سیکٹری جنرل اینڈرس جونسن کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے لئے خواتین کا اپنا منفرد کردار ہے۔ وہ معاشرے کو مردوں کی نسبت مختلف نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب معاملہ سماجی مسائل کا ہو تو خواتین کا زاویۂ نگاہ بہت مختلف مگر اہم ہوتا ہے۔ مسٹر جونسن کا کہنا ہے کہ روانڈا کی تعمیرِ نو میں خواتین کو وسیع کردار دیا جائے گا۔ ’نارڈک یا انتہائی شمالی ممالک کی سیاست میں خواتین کی کامیابی ایک ایسی ثقافت سے منسوب کی گئی ہے جس میں ہر شعبۂ زندگی میں عورتوں کے مساویانہ حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔ وقت بتائے گا کہ آیا روانڈا میں اس طرح کی ثقافت فروغ پاتی ہے یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||