BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 October, 2003, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی الزام درست نہیں‘
کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر کئی دفعہ حملہ ہو چکا ہے
کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر کئی دفعہ حملہ ہو چکا ہے

افغان حکومت نے پاکستان کے وزیر داخلہ کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر بھارت کی خفیہ ایجنسی نے پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لیے تربیتی مراکز قائم کر لیے ہیں۔

افغان نائب وزیر داخلہ ھلال الدین ھلال نے پاکستانی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کو غلط قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے اور وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اتحادی فوجین دہشت گردوں کے خلاف کارووائی کر رہے ہیں اور کوئی بھی دہشت گردی کا کیمپ ان کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نےکہا کہ افغانستان تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے کہا تھا کہ افغانستان کے مغرب میں ہرات، مشرق میں جلال آباد اور جنوبی میں قندھار میں بھارت نے دہشت گردی کے کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں سے دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد