| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر نئی قرار داد
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین عراق کی سیاسی اور اقتصادی تعمیرِ نو کی غرض سے پیش کی گئی قرار داد کے ایک نئے مسودے پر غور کر رہے ہیں۔ تازہ قرار داد میں عراق کی گورننگ کونسل کو نیا آئین تشکیل دینے اور انتخابات کروانے کے لئے پندرہ دسمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ تازہ مسودے میں سابقہ مسودے پر ہونے والے اعتراضات کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانس اور جرمنی کے وزراء خارجہ نے اس نئے مسودے کو سراہا ہے۔ لیکن روس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کو چاہیئے کہ اس مسودے کے بارے میں ماسکو کی پیش کردہ ترامیم پر بھی غور کرے۔ اس مسودے کے تحت زیادہ تر اختیارات پھر بھی امریکی انتظاامیہ کے پاس ہی رہیں گے۔ تاہم اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ اس میں عبوری انتظامیہ کو فوری طور پر خود مختاری دینے کی بات نہیں کی گئی ہے جو عراق کا آئین بنائے گی۔ قرار داد کے سابقہ مسودے پر فرانس اور جرمنی نے تحفظات ظاہر کئے تھے۔اس میں کہا گیا تھا کہ عراقیوں کو اقتدار کی منتقلی نئے آئین کے تحت ہونے والے انتخابات کے بعد کی جائے گی۔جبکہ فرانس اور جرمنی کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف اقتدار جلد از جلد منتقل کیا جاۓ بلکہ عراقی معاملات کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کو موثر کردار دیا جائے۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے نئے مسودے کے بارے میں کہا ہے کہ ابھی اس کو کامیاب قرار دینا مناسب نہیں۔ فرانس کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئے مسودے میں ’ترقی‘ ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||